پیشگوئی کا اعلان
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پسر موعود کے متعلق پیشگوئی جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔20 فروری 1886ء کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو ایک غیر معمولی بشارت سے نوازا۔ یہ بشارت ہوشیار پور میں ایک چلہ کشی کے دوران عطا ہوئی، جب آپؑ نے دعاؤں اور عبادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نشان طلب کیا۔ اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو خوش خبری دی کہ آپ کو ایک ایسا نیک اور پاک بیٹا عطا کیا جائے گا جو غیر معمولی صفات کا حامل ہوگا اور دین اسلام کی ترقی اور غلبہ کا ذریعہ بنے گا۔
پیشگوئی کی تکمیل
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی خلافت کے دوران بے مثال قیادت کے ذریعے اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا۔ آپؓ کی قیادت میں جماعت احمدیہ نے تحریک جدید اور وقف جدید جیسی تحریکات کے تحت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آپؓ کی شخصیت اور کارناموں نے حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کی عملی تکمیل کے مظاہر پیش کیے اور اسلام کے عالمی غلبہ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ پیشگوئی ہستی باری تعالیٰ کا ایک عظیم ثبوت ہے۔
پیشگوئی کی تکمیل کا اعلان – 1944

آغاز 1944ء میں حضورؓ لاہور تشریف لے گئے اور میل روڈ پر مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پر قیام فرمایا۔ پانچ اور چھ جنوری کی درمیانی شب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک طویل رؤیا دکھائی گئی، جس کے آخر میں آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے:
”وَأَنَا المَسِيحِ المَوعودُ مَثِیلُهُ و خَلِیفَتُه‘‘
(یعنی: ”اور میں بھی مسیح موعود ہوں، اس کا مثیل اور خلیفہ ہوں‘‘)۔ خواب میں وضاحت ہوئی کہ یہ الفاظ حضرت مسیح موعودؑ کے خلیفہ اور پیشگوئی ”پسر موعود“ کے مصداق ہونے کی تصدیق ہیں۔
28 جنوری 1944ء کو آپ نے قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران اس رؤیا کو بیان کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”پسر موعود“ کی پیشگوئی کا حقیقی مصداق قرار دیا ہے۔ اس سے قبل آپ نے دعا اور استخارہ بھی کیا تاکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف نہ ہو۔
پہلا جلسہ یومِ مصلح موعود
29 جنوری 1944ء کو قادیان میں یومِ مصلح موعود منایا گیا۔ مسجد اقصیٰ میں جلسہ ہوا، جس میں مقررین نے پیشگوئی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور جماعت نے اس عظیم اعلان پر خوشی کا اظہار کیا۔
ہندوستان کے مختلف شہروں میں جلسے
ہوشیار پور:
20 فروری 1944 کو ہوشیار پور میں، جہاں یہ پیشگوئی عطا ہوئی تھی، پہلا جلسہ منعقد ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے احباب جماعت کو دعا، استغفار، اور ذکر الٰہی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
”یہ موقع خشیت اور تقویٰ اللہ کے اظہار کا ہے… پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ صرف وہی لوگ اس جلسہ میں شامل ہوں جو دعائیں کرنے والے، استغفار کرنے والے، حمد کرنے والے اور ذکر کرنے والے ہیں۔“
لاہور:
جلسے کے دوران حضرت مصلح موعودؓ نے قسم کھا کر اعلان کیا:
”میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود قرار دیا ہے۔“
لدھیانہ:
اس جلسے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایمان افروز تقاریر کے ذریعے اس پیشگوئی کی تکمیل کا اعلان کیا اور جماعت کے افراد کو اس پیشگوئی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
دہلی:
دہلی میں بھی ایک جلسہ منعقد ہوا، جہاں حضرت مصلح موعودؓ نے پیشگوئی کی تکمیل کا باضابطہ اعلان فرمایا۔ آپؓ نے جماعت کے افراد کو اللہ کے وعدوں پر یقین رکھنے اور دین اسلام کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی تلقین کی۔
یہ پیشگوئی جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہمیشہ پورے ہوتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی اور کارنامے نہ صرف حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کی صداقت کے ثبوت ہیں بلکہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت اور اسلام کے عالمی غلبہ کے لیے ایک مثالی نمونہ بھی ہیں۔



