مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بنی نوع سے غیر معمولی ہمدردی

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَیَنۡھٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ وَالۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّـکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ

ترجمہ: یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حُکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔

(سورۃ النحل، آیت 91)

آج کل اگر ہم دنیا کی طرف غور کریں تو موجودہ عالمی حالات دلخراش اور رقت آمیز ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر معصوموں کا قتل عام، ایران کی زمین پر تباہی کے بادل چھائے ہوئے، غزہ کی گلیوں میں مظلوموں کی چیخیں آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ تمام بربادیاں اور جنگیں دراصل ہمدردی کی شدید کمی اور انسانیت سے دوری کا نتیجہ ہیں، جہاں انسان نے انسان کو اپنا سب سے بڑا دشمن بنا لیا ہے۔

ایسے انتشار زدہ دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نورانی پیغام ایک روشن مینار کی مانند چمکتا ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی امن صرف اور صرف بنی نوع انسان کے ساتھ غیر معمولی ہمدردی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا:

’’ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کیلئے مدد نہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘

(سراجِ منیر، روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 28)

یہ عظیم الفاظ — جو آپ کے پاکیزہ دل کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں — ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہمدردی کا دائرہ کسی ایک قوم یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ پوری بنی نوع انسان اس کا حق دار ہے۔

قرآنی تعلیم: انسانی برادری کی بنیاد

یٰۤاَ یُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّاُنۡثٰی وَجَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ

ترجمہ: یعنی اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔

(سورۃ البقرۃ، 165)

اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی تقسیم صرف پہچان کے لیے ہے، نہ کہ تفریق یا نفرت پھیلانے کے لیے۔ بہت ہی بد قسمتی کی بات ہے کہ آج کا انسان بحیثیت مجموعی اس سبق کو بھول چکا ہے — وہ نقشے پر کھینچی ہوئی چند لکیروں کو خدائی تقدیریں سمجھ بیٹھا ہے اور مظلوم کی آہ کو گالی سمجھتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس قرآنی سبق کو اپنی زندگی میں عملاً پیش کیا۔ آپ نے فرمایا:

’’میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔‘‘

(اربعین، روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 344)

مزید برآں، آپ نے نہم شرطِ بیعت میں جماعت میں داخل ہونے والوں کو واضح فرمایا:

’’   کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

ہمدردی بطور فطری جذبہ

آپؑ اپنی طبیعت کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔ یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔اگر تم کچھ بھی اس کے لئے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔‘‘

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 163)

آپؑ اپنے ایک شعر میں اس جذبۂ ہمدردی کو یوں بیان فرماتے ہیں:

اَحِنُّ إِلَى مَنْ لَا يَحِنُّ مَحَبَّةً

وَاَدْعُوْ لِمَنْ يَدْعُوْ عَلَيَّ وَيَهْذِرُ

یعنی میں تو محبت کی وجہ سے اس کی طرف بھی مائل ہوتا ہوں جو میری طرف مائل نہیں ہوتا اور میں اس کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جو مجھ پر بددعا کرتا ہے اور بکواس کرتا ہے۔

(القصائد الاحمدیہ صفحہ 106)

عملی نمونے واقعات کی روشنی میں

بڑھیا کے خط کا واقعہ

آپ خود ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں:

’’ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جا رہا تھا ایک پٹواری عبد الکریم میرے ساتھ تھا۔ وہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے۔ راستہ میں ایک بڑھیا کوئی 70 یا 75 برس کی ضعیفہ ملی۔ اس نے ایک خط اسے پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔ میرے دل پر چوٹ سی لگی۔ اس نے وہ خط مجھے دیا۔ میں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔ اس پر اسے سخت شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔‘‘

(ملفوظات، جلد 1، صفحہ416)

طاعون کے دنوں میں دعا

حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ بیت الدعا کے اوپر میرا حجرہ تھا۔ اور مَیں اس کو بطرزبیت الدعا استعمال کیا کرتا تھا۔ اس میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حالت دعا میں گریہ وزاری کو سنتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حجرہ تھا۔ کہتے ہیں کہ جب حضور وہاں دعا کیا کرتے تھے نماز پڑھا کرتے تھے تو میں حضور کی گریہ و زاری کو سنتا تھا۔ آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا اور آپ اس طرح آستانہ الہٰی پر گریہ و زاری کرتے تھے جیسے کوئی عورت دردِ زہ سے بے قرار ہو۔ وہ فرماتے تھے کہ مَیں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق الہٰی کے لئے طاعون کے عذاب سے بچنے کے لئے دعا کرتے تھے۔ (ان دنوں میں طاعون کے دن تھے) مخلوق الہٰی کے لئے طاعون کے عذاب سے بچنے کے لئے دعا کرتے تھے کہ الٰہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو جائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔

(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ صفحہ429-428)

خدام سے ہمدردی اور کشتی نوح کی تعلیم

حضرت مفتی محمد صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لاہور میں آپ سردیوں کی راتوں میں بھی خدام کی خیریت دریافت فرماتے، بے تکلف سے پیش آتے۔ حضرت مولوی شیر علیؓ سے روایت ہے کہ:

’’حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت اور مجلس میں بیٹھنے سے دل میں خوشی اور بشاشت اور اطمینان پیدا ہوتے تھے اور خواہ انسان کتنا بھی متفکر اور غمگین یا مایوس ہو ،آپؑ کے سامنے جاتے ہی قلب کے اندر مسرت اور سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۳۵۷)

ہمدردی کوئی معمولی چیز نہیں — یہ عباد اللہ کی ایک نشان ہے۔ اسی لئے قرآن میں اللہ تعالیٰ عباد اللہ کے بارے میں فرماتا ہے:

وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا ۹ اِنَّمَا نُطۡعِمُکُمۡ لِوَجۡہِ اللّٰہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُکُوۡرًا ۱۰

اور سچے مومن کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضا کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم ہرگز نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔

 (سورۃ الدھر آیت ۹-۱۰)

آپؑ نے کشتی نوح میں یہی نقطہ بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’سو تم اُس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو بڑے ہوکر چھوٹوں پر رحم کرو نہ اُن کی تحقیر اور عالم ہوکر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے اُن کی تذلیل اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرونہ خود پسندی سے اُن پر تکبر۔ ۔۔۔
’’تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹، صفحہ۱۲)

’’سو دراصل خدا کی مخلوق لے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہےاور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد ۸، صفحہ۲۶)

خلاصہ

آج جب دنیا نفرت، تشدد اور تفریق کے ہاتھوں تنگ ہے، جہاں ایک قتل پر ہزاروں بے گناہ مارے جاتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ہمدردی — یہ غیر معمولی ہمدردی — جو ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیم اور سنت کی مکمل اتباع کے نتیجے میں آپ میں پیدا ہوئی — یہی دنیا کے حالات کا نسخہ ہے۔

آج جماعتِ احمدیہ ہی وہ واحد جماعت ہے جو سارے عالم کو

 Love for All, Hatred for None 

کا پیغام دے رہی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو زمین کے کناروں تک پہنچا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کو مزید وسیع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کے ان الفاظ پر اس مضمون کو ختم کیا جاتا ہے:

’’پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔ انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔‘‘

مرا مقصود و مطلوب و تمنّا خدمتِ خلق است
ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

میرا مقصود، مطلوب اور تمنا محض مخلوق خدا کی خدمت ہے۔ یہی میرا کام ہے، یہی میرا دین ہے اور یہی میرا طریق ہے اور یہی میرا راستہ ہے۔