آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں ہر طرف دباؤ اور آزمائشیں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا، دوستوں کا اثر، اور وقتی خوشی کی تلاش انسان کو باآسانی غلط راستوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہی غلط راستوں میں سے ایک خطرناک راستہ منشیات کا ہے۔

آج کی دنیا میں جہاں ترقی، آزادی اور خودمختاری کے نام پر ہر چیز کو جائز سمجھ لیا گیا ہے، وہاں نوجوانوں کو خاص طور پر اپنے اصولوں کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب بنیادیں کمزور ہو جائیں تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح جب ایمان اور کردار کمزور ہو جائے تو انسان چھوٹی سی چھوٹی آزمائشوں میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔
منشیات وقتی سکون اور خوشی کا دھوکہ دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ انسان کی صحت، ذہن، ایمان اور مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں۔ جو چیز ابتداء میں “مزہ” لگتی ہے، وہ آہستہ آہستہ انسان کو اپنا غلام بنا لیتی ہے۔
ابتداء میں انسان یہ سوچتا ہے کہ وہ اس پر قابو رکھ سکتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی چیز اس پر قابو پا لیتی ہے۔ انسان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر جینے لگتا ہے۔ اس کا وقت، اس کی صحت، اس کے تعلقات، سب کچھ متاثر ہونے لگتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَ یُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَیۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّـکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! یقیناً مدہوش کرنے والی چیز اور جؤا اور بت(پرستی) اور تِیروں سے قسمت آزمائی یہ سب ناپاک شیطانی عمل ہیں۔ پس ان سے پوری طرح بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
(سورۃ المائدہ: 91)
یہ آیت ہمیں صاف بتاتی ہے کہ نشہ صرف ایک عادت نہیں، بلکہ شیطان کا جال ہے جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔
یہ صرف ایک ذاتی نقصان نہیں بلکہ ایک معاشرتی بیماری بھی ہے۔ جب ایک فرد نشے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا اثر اس کے گھر، اس کے دوستوں اور پوری سوسائٹی پر پڑتا ہے۔ اس لئے اسلام نے اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
’’كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ‘‘
یعنی ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
(صحیح مسلم، كتاب الأشربہ)
بھائیو! سوچو، جو چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دی، کیا اس میں واقعی کوئی بھلائی ہو سکتی ہے؟
اگر اس میں کوئی حقیقی فائدہ ہوتا تو اسلام کبھی اسے مکمل طور پر منع نہ کرتا۔ اسلام ہمیشہ انسان کی بھلائی، صحت اور کامیابی کو سامنے رکھ کر احکام دیتا ہے۔
لیکن اسلام صرف منع نہیں کرتا، بلکہ ایک بہتر راستہ بھی دکھاتا ہے۔
اسلام ہمیں صرف “نہ کرو” نہیں کہتا بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ’’کیا کرو ‘‘ تاکہ انسان ایک پاکیزہ اور متوازن زندگی گزار سکے۔
آج کا نوجوان سکون تلاش کر رہا ہے — کبھی گانے بجانے میں، کبھی دوستوں میں، کبھی نشے میں۔ مگر یاد رکھو بھائیو! حقیقی سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
دنیا کی ہر خوشی عارضی ہے، ہر لطف وقتی ہے، مگر اللہ کا قرب دائمی ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ تعلق جوڑ لیتا ہے، وہ اندرونی سکون پا لیتا ہے جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
اسی لئے قرآن کریم نے یہ خوبصورت نسخہ عطاء کیا:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ: سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔
(سورۃ الرعد: 29)
یہ آیت ایک حقیقت کو بیان کرتی ہے جو ہر انسان اپنی زندگی میں محسوس کر سکتا ہے۔ جب دل بے چین ہو، جب مسائل بڑھ جائیں، جب کوئی راستہ نظر نہ آئے،تب اللہ کا ذکر انسان کے دل کو سکون دیتا ہے۔
نماز صرف ایک فرض نہیں، بلکہ ایک روحانی طاقت ہے۔ جب انسان سجدے میں جاتا ہے، تو وہ دنیا کے تمام بوجھ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ جو سکون ایک سچے سجدے میں ہے، وہ دنیا کی کسی نشے میں نہیں۔
نماز انسان کو نظم و ضبط سکھاتی ہے، اسے وقت کی پابندی کا عادی بناتی ہے، اور سب سے بڑھ کر اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔ ایک نمازی شخص کے اندر وہ قوت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے برائیوں سے بچاتی ہے۔
اسی طرح روزہ، قرآن کی تلاوت، اور نیک صحبت انسان کے دل کو مضبوط بناتے ہیں۔ جب انسان اپنے ماحول کو بہتر بناتا ہے تو اس کے خیالات اور عادات بھی بہتر ہونے لگتے ہیں۔
انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے، اس لئے اچھے دوستوں کا انتخاب بہت ضروری ہے۔ ایسے دوست جو نماز کی طرف بلائیں، جو برائی سے روکیں، اور جو آپ کو اللہ کے قریب کریں،وہی حقیقی دوست ہیں۔
بری صحبت سے بچیں، اپنے وقت کو مثبت کاموں میں لگائیں، قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی عادت ڈالیں، باقاعدگی سے نماز ادا کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو مضبوط بنائے۔
اپنے دن کا ایک شیڈول بنائیں، اپنے مقاصد طے کریں، اور اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ گزاریں۔ بے مقصد زندگی اکثر انسان کو غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔
نشہ چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اگر کوئی نوجوان اس میں مبتلا ہے، تو اسے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
ہر گناہگار کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اور اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنے میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان سچے دل سے پلٹ آئے۔
اس لئے فرمایا:
لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللّٰهِ
ترجمہ : اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
(سورۃ الزمر: آیت 54)
اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے اور کوشش کرے، تو اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ بری عادتیں چھوٹنے لگتی ہیں اور انسان ایک نئی زندگی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
بھائیو! تم امت کا مستقبل ہو۔ تمہاری طاقت، تمہاری پاکیزگی، اور تمہارا ایمان ہی تمہیں کامیاب بنائے گا۔ وقتی خوشیوں کے پیچھے اپنی زندگی برباد نہ کرو۔
تمہارے اندر بے شمار صلاحیتیں ہیں، تم بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہو، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچاؤ جو تمہیں کمزور کرتی ہیں۔
نشہ وقتی سکون دیتا ہے، مگر نماز ہمیشہ کی خوشی دیتی ہے۔ اپنے دل کو سجدے کا عادی بنا لو، کیونکہ جو انسان اللہ کی قربت کو اپنا نشہ بنا لے، اسے کسی اور نشے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اللہ کرے کہ ہم سب دنیا کی برائیوں سے محفوظ رہنے والے ہوں۔ اللہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے، ہمیں اپنی عبادت میں لذت عطا فرمائے، اور ہمیں ہر اس چیز سے بچائے جو ہمیں اس سے دور کرتی ہے۔ آمین۔



