مزید پڑھیں

رمضان: روحانی ترقی کا خاص موقع

جیسے ہی ماہِ رمضان آتا ہے، دنیا بھر کے مسلمان مختلف انداز میں اپنے جوش اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سحری اور افطاری کے لذیذ کھانوں کے منتظر ہوتے ہیں جو وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کھاتے ہیں، کچھ افراد فٹنس اور وزن کم کرنے کے بڑے منصوبے بناتے ہیں، اور کچھ اس بابرکت مہینے کو اپنی روحانی زندگی میں بڑی تبدیلی لانے کا موقع سمجھتے ہیں۔ مگر اکثر یہ جذبہ چند دنوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے، اور بہت کم لوگ اس اصل مقصد تک پہنچ پاتے ہیں جس کے لیے رمضان آتا ہے۔ یعنی ایسی برکتیں اور عادتیں حاصل کرنا جو رمضان کے بعد بھی باقی رہیں۔

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آخر کیوں ہر سال لوگ رمضان میں بڑے جوش کے ساتھ روحانی ترقی اور دینی علم میں اضافے کے ارادے کرتے ہیں، مگر پھر وہی لوگ بار بار اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ہر سال وہی طریقے اپنائیں گے تو نتائج بھی وہی نکلیں گے۔ مختلف نتائج کے لیے سوچ اور عمل، دونوں کو بدلنا پڑتا ہے۔

ایک عام غلطی جو اکثر کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ جوش میں آ کر اپنی صلاحیتوں کا حد سے زیادہ اندازہ لگا لیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں وہ خود کو مکمل طور پر بدل ڈالیں گے، چنانچہ اپنے لیے اتنے زیادہ اہداف مقرر کر لیتے ہیں کہ آخر میں ایک بھی پورا نہیں ہو پاتا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال وہ ہیں جو پابندی سے کیے جائیں، چاہے وہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ (مسند احمد)

اس لیے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پسند رہیں اور ایسی عادتوں کا انتخاب کریں جنہیں ہم واقعی اپنا سکیں، اور ایسی چیزوں سے بچنے کا ارادہ کریں جنہیں چھوڑنا ہمارے لیے ممکن ہو۔

رمضان میں ثابت قدم رہنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم خود کو بار بار یاد دلاتے رہیں کہ ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ اکثر لوگ دوبارہ گناہوں کی طرف اس لیے لوٹ جاتے ہیں کہ وہ اپنے مقصد کو بھول جاتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’نیکی فطرت ہے اور برائی ایک اصرار ہے (جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے)، اور جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘ ۔

(ابنِ ماجہ)

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان واقعی ان نیک عادتوں کی حکمت اور فائدے کو سمجھ لے جنہیں وہ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے، تو اس کا دل خود بخود ان کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں داخل ہونے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر کون سی تبدیلی کیوں لانا چاہتے ہیں۔

عادتیں بنانے میں ماحول کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ انسان جس ماحول میں رہتا ہے، وہی اس کی سوچ اور عمل کو متاثر کرتا ہے۔ ایک اچھا ماحول وہ ہوتا ہے جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی سے بچنا آسان ہو جائے۔ رمضان ہمیں سال میں ایک بار ایسا ہی منفرد ماحول فراہم کرتا ہے، جہاں اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور غلط کاموں سے رکنا نسبتاً    آسان ہو جاتا ہے۔

اکثر ہمارا سماجی حلقہ، چاہے ترقی روحانی ہو یا جسمانی، ہماری راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگرچہ ہم کتنے ہی پُرجوش کیوں نہ ہوں اور منصوبہ بندی بھی کر لیں، مگر ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول برقرار رکھنا جو ہمارے اہداف میں شریک نہیں، ہمیں پیچھے کھینچ لیتا ہے۔ رمضان ایک ایسا اجتماعی ماحول پیدا کرتا ہے جہاں زیادہ تر لوگ عبادت اور نیکی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور یہی چیز انسان کو اپنے ارادوں پر قائم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا:

’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے‘‘۔

 (صحیح بخاری)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ رمضان کے حوالے سے ایک خطبۂ جمعہ میں فرماتے ہیں:

’’جہنم کے دروازے بند ، جنت کے دروازے کھلے اور شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔یعنی مومن کا شیطان، وہ شیطان بھی ہے جو اس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور وہ ہر انسان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔پس آپ دیکھ لیں کہ رمضان کے مہینے میں کتنی ایسی عادتیں تھیں جو نیکی کے اعلی معیار کے مطابق نہیں تھیں مگر اب جب آپ کی وہ عادتیں آپ کو اپنی طرف بلاتی ہیں تو بارہا آپ کے دل سے یہ آواز اٹھتی ہے ‘نہیں’۔معلوم ہوتا ہے کہ ایک قید ہے اور بہت سے روزے دار قید کا احساس نمایاں طور پر رکھتے ہیں‘‘

(خطبات طاہر، جلد 15، صفحہ 67)

یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ عادتیں بدلنا آسان نہیں ہوتا، اور اس کے ساتھ ایک ابتدائی مشقت ضرور آتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ مشقت کم ہو جاتی ہے اور عادت انسان کا حصہ بن جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اس شخص کا واقعہ بیان فرمایا جس نے سو قتل کیے تھے۔ وہ توبہ کی نیت سے ایک عالم کے پاس گیا، مگر عالم نے مایوسی میں اسے بتایا کہ اس کی مغفرت ممکن نہیں، جس پر اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر وہ ایک نیک شخص کے پاس گیا، جس نے اسے بتایا کہ توبہ ممکن ہے، مگر اسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف ہجرت کرنا ہوگی۔ یہ حدیث ہمیں یہ حقیقت سکھاتی ہے کہ گناہ کی زندگی چھوڑنا اور نیکی اختیار کرنا ایک حد تک مشقت مانگتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہجرت میں انسان کو وہ جگہ چھوڑنی پڑتی ہے جس سے اس کا نفس مانوس ہوتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر ماحول نہ بدلا جائے تو خود کو بدلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ انسان جو بھی کام کرتا ہے، اس میں کسی نہ کسی درجے کی لذت شامل ہوتی ہے۔ کوئی چیز اس وقت عادت بنتی ہے جب انسان بار بار اس سے حاصل ہونے والی خوشی کو محسوس کرتا ہے۔ عام طور پر وہ کام جن میں سب سے زیادہ لذت ہوتی ہے، وہی سب سے زیادہ محنت بھی مانگتے ہیں۔ نماز اور عبادت کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

’’اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذّت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظِ نفس سے بالا تر اور بلند ہے‘‘۔

(ملفوظات، جلد 1، صفحہ 140)

ایک اور مقام پر آپؑ فرماتے ہیں:

’’جب انسان اس طرح پر مستقل مزاج ہو کر لگا رہتا ہے تو آخر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کر دیتا ہے جس کے لئے اس کے دل میں تڑپ اور بےقراری ہوتی ہے، یعنی عبادت کے لئے ایک ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے… لیکن اگر کوئی شخص مجاہدہ اور سعی نہ کرے۔ اور یہ سمجھے کہ پھونک مار کر کوئی کر دےیہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور سنت نہیں ۔‘‘

(ملفوظات، جلد 8، صفحہ 6-5)

اسی لیے رمضان میں ان چیزوں سے بچنا ضروری ہے جو بغیر محنت کے وقتی لذت دیتی ہیں، کیونکہ وہ انسان کو اس اعلیٰ لذت سے محروم کر دیتی ہیں جو عبادت اور نیکی میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر انسان کا باطن یہ سیکھ لے کہ بغیر کوشش کے بھی خوشی حاصل ہو سکتی ہے، تو وہ اس محنت کے لیے تیار نہیں رہتا جو عبادت کی حقیقی لذت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔

آخرکار، چاہے ہم کتنی ہی منصوبہ بندی کر لیں اور کوشش بھی کر لیں، خاص طور پر روحانی معاملات میں مستقل ترقی دعا کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے رمضان کے مہینے میں، جب دعا کے مواقع خاص طور پر زیادہ ہوتے ہیں، ہمیں اپنے لیے خوب دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!