مزید پڑھیں

جسمانی صحت اور ورزش

اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی نہ صرف روحانی تربیت کی طرف راہنمائی کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صحتِ جسمانی کا بھی خیال رکھنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

کُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا

کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔

(الأعراف:۳۲)

اگر انسان کھانے پینے میں اعتدال سے کام نہیں لے گا تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور پھر وہ عبادات بھی صحیح طریق پر نہیں بجالا سکے گا۔

حدیث میں آتاہے۔

 قال النبي صلى الله عليه وسلم: نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس، الصحة والفراغ۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔“

(صحیح بخاری، كِتَاب الرِّقَاقِ، 6412)

اس حدیث میں بھی یہی بیان ہوا ہے کہ انسان جب تندرست اور صحت مند ہوتا ہے تو وہ کھانے میں توازن نہیں رکھتا اور ورزش نہیں کرتا۔ 

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ  رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف۔

ترجمہ: طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔

(صحیح مسلم، كِتَاب الْقَدَرِ)

یہ حدیث جسمانی صحت اور تندرستی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے؛ جتنا صحت مند انسان ہو گا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کے قابل ہو گا۔

آپؐ نے اپنی نوجوانی کے زمانے میں بکریاں بھی چرائیں۔

 آپؐ نے فرمایا:

مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ

 ترجمہ: اللہ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ اس نے بکریاں چرائیں۔

 (صحیح بخاری، کتاب الاجارہ)

عرب کے تپتے صحرا میں کم سِن عمر سے بکریوں کی نگہداشت ایک جسمانی طور پر تھکا دینے والا کام تھا۔ بکریاں مسلسل توجہ اور نگہداشت کی متقاضی ہوتی ہیں۔ ان کی خاطر چراگاہوں کی تلاش، پانی اور چارے کا بندوبست، مسلسل حرکت کا متقاضی تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جسمانی طور پر ہمیشہ متحرک اور فعال رہے۔

و رزش کے بارے میں اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیسے کرنی چاہئے۔ اس بارے میں ہمارے سامنے نبی اکرمﷺ کا اسوہ حسنہ موجود ہے۔ جب میں نے اپنے بزرگوں اور دوستوں سے پوچھا کہ آنحضورﷺ کا ورزش کے بارے میں کیا دستور تھا؟آپ ورزش کیسے کرتے تھے؟کیا وہ ورزش دل کے مریضوں کے لئے قابل قبول تھی؟ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ ورزش کے جو طریقے ماہرین ہمیں بتاتے ہیں وہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں آنحضورﷺ اپنے عمل سے بتا چکے ہیں۔ یعنی آپ کی سیر کا وقت صبح سویرے فجر کی نماز کے بعد تھا۔ ناشتہ سے پہلے خالی پیٹ سیر کیا کرتے تھے۔ عموماً صحابہ کرامؓ آپ کے ساتھ ہوتے، سیر کے وقت تیز چلا کرتے تھے ۴۰۔ ۳۵منٹ تک سیر کیا کرتے تھے۔ وغیرہ۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’انسانی روح اور جسم کا ایسا جوڑ ہے کہ ایک کی خرابی دوسرے پر اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی۔ رسول کریمﷺ نے اس امر میں بھی ہمارے لئے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے اور نیکی اور تقویٰ کو صحت کی درستی اور ورزش کا خیال رکھنے کے خلاف نہیں قرار دیا ہے تاریخ بتاتی ہے کہ آپ اکثر شہر سے باہر باغات میں جاکر بیٹھے تھے۔ گھوڑے کی سواری کرتے تھے اپنے صحابہؓ کو کھیلوں وغیرہ  میں مشغول دیکھ کر بجائے ان سے ناراضگی کا اظہار کرنے کے ان کی ہمت بڑھاتے تھے مرد تو مرد رہے آپ عورتوں کو بھی ورزش کی ترغیب دیتے تھے۔ چنانچہ کئی دفعہ آپؐ اپنی بیویوں کے ساتھ مقابلہ پر دوڑے اور اس طرح عملاً عورتوں اور مردوں کو ورزشِ جسمانی کی تحریک کی۔ ہاں آپؐ اس امر کا خیال ضرور رکھتے تھے کہ انسان کھیل ہی کی طرف راغب نہ ہوجائے اور اس امر کی تعلیم دیتے تھے کہ ورزش، مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہوناچاہئیے۔ نہ کہ خود مقصد۔‘‘ 

(انوار العلوم جلد ۱۰، رسول کریم ؐ ایک انسان کی حیثیٹ میں، صفحہ 548) 

حضرت  مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا کہ

 ’’ایک دفع میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک  دوست کو سمجھا رہا ہوں کہ ورزش نہ کرنا بھی ایک گناہ ہے۔‘‘

( انوار العلوم جلد ۹، منهاج الطالبین صفحہ ۲۱۶)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جرمنی انصاراللہ کے 1998ء کے اجتماع پر اراکین عاملہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں فرمایا کہ

’’اگر آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گے تو آپ جماعت کا کام بھی اچھی طرح نہیں کر سکیں گے اور آپ اچھے صحت مند ہونے کے سبب جماعت کو زیادہ وقت دے سکیں گے‘‘۔

(سبیل الرشاد ، جلد سوم ، صفحہ 476)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

’’ہمیشہ یاد رکھیں۔ صحت مند تفریح، صحت مند جسم کے لئے ضروری ہے اور صحت مند جسم اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے لئے ضروری ہے‘‘

(مشعل راہ جلد 5 حصہ 4 ص 50)