مزید پڑھیں

عہدِ دوستی

عہد دوستی ایک ایسا وعدہ ہے کہ اگر اس کو پورے طور پر نبھایا جائے تو انسان اپنی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اپنے معاشرہ میں بھی امن پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ عہد دوستی سے مراد اپنے دوست کے ان حقوق و فرائض کی جو اسلام نے اپنی تعلیم کی رو سے ایک مسلمان پر عائد کئے ہیں بجا آوری لانا ہے۔

دوست کیسا ہونا چاہیے

ایک سچا دوست وہ ہوتا ہے جس کی خیر خواہی اور محبت قابلِ اعتبار ہو اور جس سے سچَی خیر خواہی و محبت کی جائے۔اسلام نے حقیقی دوست اس شخص کو قرار دیا ہے جس کا دل پاک اور صاف ہو اور اس کے دل میں خدا کی محبت بستی ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے لوگوں کو چھوڑ کر دوسروں کو جگری دوست نہ بناؤ۔ وہ تم سے برائی کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ تم مشکل میں پڑو۔ یقیناً بُغض ان کے مُونہوں سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو کچھ ان کے دل چھپاتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ یقیناً ہم تمہارے لئے آیات کو کھول کھول کر بیان کرچکے ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔

(سورۃ اٰل عمران آیت نمبر ۱۱۹)

ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ

ترجمہ: مومن، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ پکڑیں۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ سے بالکل کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ سوائے اس کے کہ تم ان سے پوری طرح محتاط رہو۔ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبردار کرتا ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔

(سورۃ اٰل عمران آیت نمبر ۲۸)

ان دو آیتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے دوستی کرنے کی نصیحت کی ہے جن کے دل میں ہمارے لئے ملامت نہ پائی جاتی ہو اور اللہ تعالیٰ کے دین کے منکر نہ ہوں۔کیونکہ اگر اس اہم نصیحت پر عمل نہ کیا جائے تو بہت دینی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔  اسی کے متعلق  اطفال کو نصائح  کرتے ہوئے کہ دوست کیسا ہونا چاہیئے  حضورِ انور  ایدہ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دوست ایسے بناؤ جو اچھے ہوں، جو اچھی باتیں کرنے والے ہوں اور پڑھائی کی باتیں کرنے والے ہوں یا اچھی اچھی نیک باتیں کرنے والے ہوں۔ جنرل نالج کی باتیں کرنے والے ہوں جس سے علم بھی بڑھے اور ویسے اللہ تعالیٰ کی باتیں اور نیک باتیں کرنے والے ہوں ایسے دوست بنانے چاہئیں… پھر ان لوگوں کے لیے دعا بھی کرو کہ وہ بھی نیک لوگ ہو جائیں۔ دوستوں کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے کہ اچھے نیک لوگ ہوں۔

(آن لائن ملاقات مجلس اطفال الاحمدیہ جرمنی منعقدہ مورخہ 28؍ اگست 2021ء)

انسان اپنے دوست کا عکس ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا:

انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ اس لئے اسے غور کرنا چاہئے کہ وہ کسے دوست بنا رہا ہے۔

(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومر ان یجالس)

ایک اور روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ  بیان کرتے ہیں:

آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ان دوشخصوں کی طرح ہے جن میں سے ایک کستوری اٹھائے ہوئے ہو اور دوسرا بھٹی جھونکنے والا ہو۔ کستوری اٹھانے والا تجھے مفت خوشبو دے گا یا توُ اس سے خرید لے گا۔ ورنہ کم ازکم تو اس کی خوشبو اور مہک سونگھ ہی لے گا۔ اور بھٹی جھونکنے والا یا تیرے کپڑوں کو جلادے گا یا اس کا بدبودار دھواں تجھے تنگ کرے گا۔

(مسلم کتاب البر والصلۃ باب استحباب مجالسۃ الصالحین)

دوستوں کا معیار

اب جبکہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایک حقیقی دوست کون ہوتا ہے، تو پھر اسلام کی تعلیم کے مطابق دوست کیا معیار کیا ہے، یہ بات سمجھنا اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا:

وَاعۡبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَالۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ…

 ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی…۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوست کا معیار جس کو اس آیت میں غیر رشتہ دار ہمسایہ قرار دیا ہے قریبی رشتہ دار کے مقابلہ پر رکھا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ سالانہ برطانیہ 2021ء کے اختتامی خطاب میں دوستوں کے حق کے بارہ میں فرماتے ہیں:

’’ پھر اللہ تعالیٰ نے دوستوں کو بھی قریبی رشتہ داروں کی فہرست میں شامل کر کے بھائی چارے کی ایسی فضا پیدا کی ہے جو قربت کے احساس کو بڑھائے۔ دوستوں کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ جب اس طرح دوستی ہو جائے تو اسے قائم بھی رکھنا ہے۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت ابواُمَامہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی خاطر محبت کی اور اللہ کی خاطر نفرت کی اور اللہ کی خاطر دیا اور اللہ ہی کی خاطرکچھ دینے سے رکا رہا تو یقیناًً اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔خدا کی خاطر دوستی نبھانا ، یہی حقیقی دوستی قائم رکھ سکتا ہے اور رکھتا ہے۔ عارضی دوستی نہیں ہوتی جس میں دراڑیں پڑ جائیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی محبت کے بغیر دوستی ہے وہ دوستی عارضی ہوتی ہے۔‘‘

دوستی کی اعلیٰ ترین مثال

عہد دوستی  کی سب سے بہترین مثال ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوانح مبارک سے حاصل ہوسکتی ہے۔ آپؐ اور آپ کے سب سے مقرب صحابی سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ  کی آپس میں دوستی کا جو معیار تھا اس کی نظیر آج کی دنیا میں بہت مشکل سے نظر آتی ہے۔ آپ دونوں پچپن سے بہت قریبی دوست تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ آںحضورؐ کی پاک سیرت اور اچھے اخلاق کے عینی شاہد تھے۔ اس دوستی کا عالم یہ تھا کہ جب آنحضورؐ نے اپنے خدا کی طرف سے رسول ہونے کا اعلان کیا تو آپؓ نے بلا جھجک آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں دوستی کی ایک ایسی اعلیٰ مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ عالم میں نظر نہیں آتی۔

مواخات مهاجرین و انصار:

رشتۂ اخوت اور تعلق کو مزید مضبوط کرنے کے لیے نبی کریمﷺ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان پر سب انصارومہاجرین کو جمع فرمایا اور ان سب کی باہم مناسبت کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے انصارومہاجرین کے دو دو جوڑے بناکر انہیں ایک ایسے رشتۂ اخوت میں پرودیاجس کے سبب وہ سب یک جان دوقالب ہوگئے۔اس سے پہلے اس رشتہ ٔ اخوت و مودّت جیسی ادنیٰ سی مثال بھی روئے زمین پر نہیں پائی جاتی۔ اس طرح انصارومہاجرین کے نوّے جوڑے بنے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو سعد ؓابن الربیع انصاری کا بھائی بنایا گیا۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جوش محبت سے اپنے سارے مال ومتاع کانصف گن گن کر حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے سامنے رکھ دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں ایک کو مَیں طلاق دے دیتا ہوں تم عدت گزرنے کے بعد اس سے شادی کرلینالیکن حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے حضرت سعد ؓکا شکریہ ادا کیا اور بازار کا رستہ پوچھ کر وہاں گئے اور چھوٹی موٹی تجارت شروع کردی۔

(سیرت خاتم النبیین صفحہ 309-310 )

حضرت مسیح موعودؑ کی عہد دوستی

قارئین  کرام !حضرت مسیح موعودؑ کا اپنے دوستوں کے ساتھ سلوک بھی عہد دوستی کا ایک اعلی معیار قائم کرتا ہے۔ اگر ہم حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت پر نظر دھوڑائیں تو ہمیں بہت سی مثالیں نظر آئیں گی جس میں آپؑ کا اپنے دوستوں کے ساتھ ایک بے مثال محبت بھرا سلوک دیکھنے کو ملتا ہے۔  آپ ؑ کے مقرب حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب روایت کرتے ہیں کہ

’’حضرت مسیح موعودؑ نے ایک دن فرمایا ۔میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص عہد دوستی باندھے مجھے اس کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ شخص کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کرسکتا ۔ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کردے تو ہم لاچار ہیں ۔ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو تو ہم بلاخوف لومہ لائم اسے اٹھاکر لے آئیں گے ۔فرمایا ۔عہد دوستی بڑا قیمتی جوہر ہے اس کو آسانی سے ضائع نہیں کردینا چاہیے اور دوستوں کی طرف سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آئے اس پر اغماض اور تحمل کا طریق اختیار کرنا چاہیے ۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ 590)

دوست کے لئے دعا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے دوستوں کے متعلق دعا کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’مجھےیہ الہام بارہا ہوچکا ہے اجیب کل دعائک…کہ ہر ایک ایسی دعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے، قبول کی جائے گی… جب مجھے یہ اول ہی اول الہام ہوا… تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں جو میرے یا میرے احباب کے متعلق ہوں گی، ضرور قبول کرے گا… پس میں نے اپنے دوستوں کے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ خواہ وہ یاد دلائیں یا نہ یاد دلائیں، کوئی امر خطیر پیش کریں۔ یا نہ کریں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی کے لیے دعا کی جاتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۶۷ ایڈیشن ۱۹۸۸ء)

نیز ایک اور موقع میں فرمایا

’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔‘‘

(ملفوظات جلد۲صفحہ ۳۷۲-۳۷۲، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضورﷺ نے فرمایا:

’’دوستوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے دوست کے لئے سب سے بہتر ہے…  ‘‘

(ترمذی کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی حق الجوار)

آخر پر اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ ہمیں اپنے دوستوں کے ساتھ بہترین رنگ میں عہد پیماں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے  اور اس کے ذریعہ ہم  اللہ تعالیٰ  کے ساتھ دوستی اور وفا کا تعلق قائم کرسکیں۔