مزید پڑھیں

روزوں کے فوائد

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

(سورة البقرة، آیت ۱۸۴، تفسیر کبیر)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو روزوں کی فرضیت کا مقصد بیان فرمایا ہے، یعنی تقویٰ کا حصول۔ جیسا کہ قارئین کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک قریب آ رہا ہے، اور جلد ہی ہم اس مقدس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں سے فیض یاب ہونے والے ہیں۔ تو ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزوں کی حقیقت اور اس کے بیش بہا فوائد کو سمجھے۔ روزہ محض بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانی اور اخلاقی تربیت کا ایک ایسا جامع نظام ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کے قرب، استقامت، صبر، ایثار اور قربانی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں روزوں کے جو فوائد بیان فرمائے ہیں، وہ اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ رمضان المبارک نہ صرف صحتِ جسمانی کا مہینہ ہے، بلکہ روحانی اصلاح، سماجی ہم آہنگی، قومی ترقی، ضبط نفس، تقویٰ اور قربِ الٰہی کے بے شمار مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں انہیں نکات کو اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

  • تھکان اور کمزوری وغیرہ جسم میں زائد مواد جمع ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور روزہ اس کے لئے نہایت مفید ہے۔ روزہ صحتِ جسمانی کے لحاظ سے بھی بے حد فائدہ مند ہے۔ جب انسان صحت کی حالت میں روزے رکھتا ہے، تو اگرچہ رمضان کے دوران تھکن اور کوفت (fatigue) محسوس ہو سکتی ہے، لیکن رمضان کے بعد جسم میں ایک نئی قوت اور تروتازگی آ جاتی ہے۔

یہ فائدہ تو صحت جسمانی کے لحاظ سے ہے مگر روحانی لحاظ سے اس کا یہ فائدہ ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔

  • روزوں کے ذریعہ انسان دکھوں سے بھی بچتا ہے۔سب سے پہلے خدا کے لئے تکلیف اٹھاؤ تو خدا گناہوں کی سزا سے بچاتا ہے۔دوسرا یہ کہ جب انسان بھوکا رہتا ہے تو اپنے غریب بھائیوں کا بھی احساس کرتا ہے ان کو ہلاکت سے بچانے سے خود بھی ہلاکت سے بچتا ہے ،اس سے قوم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ قومی ترقی کا راز یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ تباہی تب آتی ہے جب لوگ سمجھنے لگیں کہ ان کی چیزوں پر صرف ان کا حق ہے۔ دنیا کا نظام اس اصول پر قائم ہے کہ اپنی چیز دوسروں کے فائدے کے لیے پیش کریں، اور رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے اور یہی دنیا کے تمدن کی بنیاد ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک تیز آندھی کی طرح رمضان میں صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔
  • روزوں کے ذریعے انسان میں مشقت برداشت کرنے کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی لوگ مشکلات کے وقت دلیری سے کام لیتی ہیں۔  دنیاوی حکومتوں کی طرح رمضان مسلمانوں کے لیے ایک روحانی تربیت کا مہینہ ہے، جس میں وہ روزوں اور عبادات کی مشق کرتے ہیں۔ جیسے مشق کرنے والی فوج دشمن سے شکست نہیں کھاتی، ویسے ہی متقی اور نیک مسلمان جو اخدا تعالیٰ کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں شیطان کے حملوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
  • روزے قوم میں قربانی اور صبر کی عادت پیدا کرتے ہیں۔ عرباء تو فاقہ اور مشکلات کے عادی ہوتے ہیں تو امراء کو بھی بھوک اور پیاس کی برداشت کی مشق کروائی جاتی ہے۔ یہ مشق مومنوں دونوں غریب اور امیر کو دین کی خدمت اور تبلیغی جہاد کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے، تاکہ جب خدا کی طرف سے جہاد کا حکم آئے تو سب بلا جھجک اس کی راہ میں خود کو پیش کر سکیں۔
  • روزوں کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ نیکی کے لئے مشقت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔ زندگی کی راحت اور آرام کھانے، بولنے، سونے اور جنسی تعلقات میں رکھی ہے۔ تو رمضان انسان کو نیکی حاصل کرنے کے لئے دنیا کی لذتوں کو چھوڑ کر صرف خدا کی رضا پانے کی مشق کرواتا ہے۔ روزہ کے دوران وہ بالکل نہیں کھاتا، اور بے فضول نہیں بولتا، راتوں کو اٹھ کر تہجد اور عبادات بجالاتا ہے جس کی وجہ سے کم سوتا ہے۔
  • روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بھی بچ جاتا ہے۔ جب ایک مومن دنیا سے انقطاع کرتا ہے تو اس کی روحانی نظر میں تیزی آجاتی ہے اور وہ عیوب کو پہچاننے لگتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ روزہ رکھنے  کا صرف یہی مطلب نہیں کہ مومن صرف بھوکا رہے بلکہ اپنی زبان پر قابو رکھے، نہ جھوٹ بولے، غیبت نہ کرے اور نہ جھگڑا کرے۔ جو انسان اپنے آپ کو  ایک ماہ ان برائیوں سے بچائے رکھے گا وہ باقی گیارہ ماہ  میں بھی محفوظ رہے گا۔
  • روزے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ انسان تقویٰ پر ثابت قدم رہتا ہے اور روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غرباء کو تسکین دیتا ہے کہ ان کی تنگدستی اور فاقے بھی، اگر اس کی رضا کے مطابق برداشت کیے جائیں تو وہ ثواب اور  اس کے قرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ الصوم لی وانا اجزی بہ روزے کی جزا خود خدا کی ذات ہے۔ غرباء کو روزوں کے ذریعے یہ درس دیا گیا ہے کہ ان کی فقر و فاقہ کی زندگی بے معنی نہیں، بلکہ یہی قرب الٰہی کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ وہ صبر اور شکر سے کام لیں۔ انبیاء کی اکثریت بھی غرباء میں سے ہوئی، اور دنیا کی اکثریت چونکہ غریب ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بھی ان کی دل جوئی کی ہے۔اسی طرح امراء کے لیے روزہ قربانی اور ضبط نفس کا درس دیتا ہے۔ جب وہ خدا کی رضا کے لیے حلال چیزیں بھی چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے دل میں برائیوں اور حرام چیزوں سے بچنے کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ انہیں نیکیوں کے میدان میں ترقی عطا فرماتا ہے۔
  • روزے کا ایک روحانی فائدہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ خدا نیند اور کھانے پینے سے پاک ہے، اور انسان رمضان میں نیند اور کھانے پینے کو محدود کر کے اس سے مشابہت پیدا کرتا ہے۔ سحری اور تہجد کے لیے جاگنے سے نیند قربان ہوتی ہے، اور کھانے پینے سے پرہیز کر کے اللہ کے قرب کی کیفیت محسوس کی جاتی ہے۔  جس طرح اللہ سے خیر ہی ظاہر ہوتا ہے، انسان کو بھی روزے کے دوران نیکیاں کرنے اور غیبت، بدگوئی، اور جھگڑوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس طرح مومن خدا کی صفات سے ممکنہ حد تک مشابہت اختیار کر کے روحانی بلندی حاصل کرتا ہے۔
  • روزے کا ایک اہم روحانی فائدہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا الہام انسانی قلب پر نازل ہوتا ہے اور کشفی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ قرآن کریم رمضان میں نازل ہوا تھا، اس لیے جو لوگ اس مہینے میں رسول کریم ﷺ کی اتباع کرتے ہیں، دنیاوی تعلقات محدود کرتے ہیں، اور نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے الہام، رویا صادقہ اور کشوف صحیحہ سے نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفت یہ ہے کہ جب وہ کسی موقع پر فضل نازل کرتا ہے تو اسے بار بار دہراتا ہے، جیسے بہار میں اپنی رحمت کی شان دکھاتا ہے۔ اسی طرح، ہر رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنی برکات نازل فرماتا ہے اور مومنوں کو روحانی ترقی کے تازہ ثمرات عطا کرتا ہے۔
  • روزوں کا ایک روحانی فائدہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے الہام اور کشفی بصیرت سے نوازا جاتا ہے۔ روزے رکھنے سے انسانی قلب پر اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہوتا ہے اور اس کی روحانی نگاہ میں روشنی اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ درحقیقت، اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک خاص مشابہت عادت سے پائی جاتی ہے، گو کہ وہ انسانی عادت کی طرح نہیں۔ جیسے انسان کسی کام کو بار بار دہراتا ہے، ویسے ہی اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت اور فضل کو مخصوص مواقع پر بار بار نازل کرتا ہے۔چونکہ قرآن کریم رمضان میں نازل ہوا، اس لیے یہ مہینہ اللہ کے فضل و کرم کے نزول کا خاص وقت ہے۔ جو لوگ رسول کریم ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے دنیاوی تعلقات سے الگ ہو جاتے ہیں، کھانے پینے اور نیند میں کمی کرتے ہیں، اور غیبت، بدگوئی اور دیگر برائیوں سے پرہیز کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ ایسے مومنین کو کشوف، رویا صادقہ، اور اسرار غیبیہ کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور وہ اللہ کے قریب تر ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام  ’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ‘‘ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بار بار انعامات نازل کرتا ہے، جیسے موسم بہار بار بار آتا ہے اور نئی زندگی کا پیغام لاتا ہے۔ رمضان کے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو روحانی پھل عطا کرتا ہے، جو کلام الٰہی کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتے ہیں۔
  • روزوں سے روحانیت یوں بھی ترقی کرتی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے کھانے پینے کو ترک کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے اور اپنی بیوی سے مخصوص تعلقات چھوڑ کر وہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی نسل کو قربان کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ ان قربانیوں کے ذریعے وہ خدا تعالیٰ کی لقاء کا مستحق بن جاتا ہے اور اس سے مضبوط تعلق قائم ہونے کے باعث ہمیشہ کے لئے گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔
  • رمضان کے ذریعہ انسان میں استقلال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ نیکی مسلسل ایک مہینے تک جاری رہتی ہے۔ عام دنوں میں کئی بار کھانے کے عادی لوگ رمضان میں صرف دو وقت کھانے تک محدود ہو جاتے ہیں، اور رات کو سونے کے بجائے تہجد اور سحری کے لیے جاگتے ہیں۔ اسی طرح دن میں قرآن کریم کی تلاوت میں بھی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسلسل قربانی کا سلسلہ انسان کو ثابت قدمی سکھاتا ہے، جو حقیقی محبت اور روحانی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عبادت میں بشاشت اور تسلسل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
  • روزوں کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ مومنوں کو اپنے جائز حقوق ترک کرنے کی مشق کراتے ہیں۔ عام دنوں میں انسان حرام چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن رمضان میں وہ حرام نہیں بلکہ حلال چیزیں بھی چھوڑنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ یہ قربانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ حقیقی کامیابی کے لیے صرف حرام سے بچنا کافی نہیں، بلکہ بعض اوقات اپنے جائز حقوق سے بھی دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ دنیا میں اکثر جھگڑے اس وجہ سے نہیں ہوتے کہ لوگ دوسروں کے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ اپنا حق چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے فتنے کھڑے کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ دنیا کا امن برباد ہو جاتا ہے۔ اگر لوگ قربانی دینے کا جذبہ پیدا کریں تو کئی جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں اور امن قائم ہو سکتا ہے۔ رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف حرام چھوڑنا کافی نہیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ نیکی کو فروغ ملے اور دنیا میں حقیقی امن اور اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہو۔

(تفسیر کبیر، جلد ۳، صفحہ ۱۶۶ – ۱۷۴)

رمضان المبارک محض ایک عبادت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کے جسم، روح اور معاشرتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نہایت جامع انداز میں روزے کے ان فوائد کو بیان فرمایا ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تقویٰ، ایثار، قربانی، صبر اور استقلال کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نہ صرف حرام سے بچیں بلکہ ضرورت پڑنے پر حلال اور جائز امور کو بھی ترک کر کے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کو اپنا مقصدِ حیات بنائیں۔ جو شخص رمضان کے مقاصد کو سمجھ کر روزے رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی روحانی ترقی کی منازل طے کرتا ہے بلکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ پس، ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک کی برکات سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنے اعمال کو اس نہج پر استوار کریں جو ہمیں خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانے والا ہو۔ آمین!