یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں تا کہ اس کے بدلہ میں اُنہیں جنت ملے۔ وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں۔
(سورۃ التوبہ، آیت 11)
جب بھی ہم کسی علم یا ہنر میں کمال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس میدان عمل کے ہنر مند کو دیکھتے ہیں۔ فٹ بال ہو تو Cristiano Ronaldoکو دیکھتے ہیں یا باسکٹبال ہو تو Lebron James کو دیکھ لیا۔ پس یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ہر صورت میں انسان ایک نمونہ کا محتاج ہے۔
مستقبل کے مبلغین کے لیے ایک بہترین نمونہ مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب ہیں جن کی کچھ اعلیٰ نمونہ کی مثالیں میں قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن قبل از میں آپ کا مختصر سا تعارف کروا دیتا ہوں۔
آپ کی پیدائش 1904 میں ہوئی اور آپ کا پیدائشی نام اللہ دتا تھا مگر آپ اپنے تخلص ابو العطاء سے زیادہ مشہور ہیں۔آپ کے والد صاحب کو 1902 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ صاحب کشف و الہام تھے۔ اور آپ کو اکثر اوقات سچی خوابیں نصیب ہوتی تھیں۔ آپ کی انکساری اور فروتنی تھی کہ آپ اپنی صادقانہ خوابوں و الہامات کا ذکر کم کرتے تھے۔
(Cherished Memories of My Father, Maulana Abul Ata Jalandhari – Part I.” Al Hakam)
مولانا صاحب محض چار سال کے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال یار ہوا لیکن مولانا صاحب بیان کرتے تھے کہ اس چھوٹی عمر میں بھی انہیں یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک روز گلی میں پیدل چل رہے تھے کہ حضور علیہ السلام کی مبارک نظران پر پڑی۔ مولاناصاحب بیان کرتے ہیں کہ اس ’’مبارک نظر‘‘ نے ان کے معصوم دل پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ وہ رعب اور روحانی کشش انہیں تمام عمر یاد رہی۔
(حیاتِ احمد)
ہم نے یہ مصرہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مبارک کلام سے بار ہا مرتبہ سننے کا موقع ملا ہے کہ
تم میں اسلام کا ہو مغز، فقط نام نہ ہو
(کلامِ محمود)
آپ انہی بابرکت الفاظ کے شاندار مظہر تھے۔
آپ نے اپنی زندگی میں 263 سے زائد مضمون اور کتب تصنیف فرمائیں ۔
آپ نے مشہور عالمی رسالہ الفرقان شروع کیا۔ ایسا رسالہ جو 26 درازسال تک جاری رہا۔ اور آپ نے اس رسالہ کے اخراجات خود اٹھاے۔
مولانا صاحب پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اتنا اعتماد تھا کہ آپ نے 1931 میں ایک مناظرہ کے موقعہ پر تحریر فرمایا کہ ’’میں مولوی اللہ دتا صاحب کو… اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں… میری طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مباحثہ کریں اور ان کا ساختہ پرداختہ کلی طور پر میری طرف سے سمجھا جائے گا۔
(الفضل 27 جون 1931)
چنانچہ آپ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1956 کے جلسۂ سالانہ ربوہ کے موقعہ پر خالد احمدیت کے لقب سے نوازا۔ یہ خطاب آپ رضی اللہ عنہ نے صرف تین اشخاص کو عنایت فرمایا۔ ان کے علاوہ مولانا جلال الدین شمس صاحب اور مولانا عبد الرحیم درد صاحب تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس خطاب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا ابوالعطاء صاحب مذہبی مناظروں کے وہ جرنیل ہیں جنہوں نے کبھی شکست نہیں کھائی۔
آپ کو 1974 میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے وفد میں جو نیشنل اسمبلی پاکستان کے سامنے پیش ہونا تھا اس میں بھی شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے علاؤہ بھی آپ نے بے شمار خدمات سرانجام دیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ابو العطاء صاحب ربوہ میں نمایہ بزرگان میں سے تھے۔ نظر آتا تھاکہ یہ تمام لوگ انسانوں کے روپ میں فرشتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو عربی زبان میں بھی مہارت حاصل تھی۔ حضرت مولانا صاحب عربوں کے ساتھ ان سے بھی زیادہ روانی سے عربی میں بات کرتے تھے۔ عرب طلباء کے سوال کے جواب میں دس دس، پندرہ پندرہ منٹ لگاتار عربی میں بات کر تے تھے اور عرب ان کی روانی اور بات کے انداز اور اخلاق سے بڑے متاثر ہوتے تھے۔
آپ کے فرزند مولانا عطاء المجیب راشد صاحب لکھتے ہیں کہ 1953 میں جماعت نازک حالات کی وجہ سے میں کبھی کبھار پریشان ہو جاتا تھا۔ ایک موقع پر اتنا پریشان ہوا کہ میرے والد محترم نے اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلائی کہ
عطاء المجیب راشد صاحب ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی جب حائفہ میں پوسٹنگ تھی تو وہ ایک روز رات کے وقت کبابیر کی جانب ایک دوست کے ساتھ ایک پروگرام سے واپس جارہے تھے۔ راستہ میں جنگل سے گزر رہے تھے کہ انہیں محسوس ہوا کہ کوئی جھاڑیوں میں ہے۔ لیکن اس خیال کو کوئی توجہ نہ دی اور وہ آگے بڑھتے گئے۔ کچھ دیر بعد گولیاں چلنے کی آواز سنی لیکن انہوں نے اسے ایک اتفاقی واقعہ سمجھا اور اس پر زیادہ توجہ نہ دی۔
والد صاحب فرماتے تھے کہ چنانچہ وہاں کچھ مخالف احمدیہ لوگ تھے جو کچھ عرصے سے مجھے مارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس رات دو نوجوانوں نے دو نئی بندوقیں ابھی خریدیں تھیں اور میرے اور میرے دوست کے منتظر تھے۔اور جب ہم ان کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک نے مجھ پر گولی چلائی لیکن اس کی بندوق کام نہ آئی پھر دوسرے شخص نے مجھ پر گولی چلانے کی کوشش کی اور وہ بھی کام نہ آئی۔ لیکن اس دوران ہم ان کے قتل کی کوشش سے بالکل بے خبر تھے۔ہم بغیر کسی نقصان کے آگے بڑھے، ان سے آگے بڑھنے کے بعد، دونوں نے اپنی نئی بندوقیں دوبارہ چلائیں اور وہ بالکل ٹھیک چل رہی تھیں۔ خدا تعالیٰ کی مدد اور حفاظت تھی جس کی وجہ سے ہم بچ گئے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ان بندوقوں کا نشانہ اسلام کے دو مجاہدوں پر تھا، تو قادر مطلق خدانے انہیں بندوق چلانے سے روک دیا۔
اسی طرح والد صاحب نماز کے ہمیشہ پابند تھے۔ چنانچہ جب ربوہ میں گھر ہوتاتھا تو بعض اوقات شدید گرمی ہوجاتی تھی۔ لوگ اپنے گھر میں ہی نماز ادا کرتے تھے۔ اتنی شدید گرمی میں بھی میرے والد صاحب تولیہ سے سر ڈھانپتے، ایک گلاس پانی پیتے اور نماز کے لیے مسجد جاتے۔ اتنی شدید گرمی کے پیش نظر کئی مواقع پر میں نے انہیں یہ آیت پڑھتے سنا:
نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا
جہنم کی آ گ جلن کے لحاظ سے زیادہ سخت ہے۔
(سورۃ التوبہ، آیت 81)
آپ کی صادقانہ زیست کا خلاصہ اس شعر سے ہو سکتا ہے
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
(علامہ اقبال)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان بزرگ کی اعلیٰ مثال کا اتباع کرنے کی توفیق دے۔ آمین !