
پیدائش اور حلیہ مبارک
حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کا پیدائشی نام ’’انظار حسین‘‘ تھا۔ آپ 1280ھ میں پیدا ہوئے اور 1360ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ اس لحاظ سے آپ کی عمر 80 سال، یا سنہ عیسوی کے پیش نظر 78 سال تھی۔
آپ کا قد چھوٹا، چہرہ باوقار اور بہت خوبصورت تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی اور روشن تھیں، جبکہ پیشانی بہت اونچی تھی جس سے ذہانت اور دقیق النظری عیاں تھی۔ آپ قرآن شریف بہت خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ چہرہ ہر وقت شگفتہ اور متبسم رہتا تھا، گویا ایک لازوال خزانہ ہاتھ آ گیا ہے اور دنیا و مافیہا سے بے نیازی حاصل ہوگئی ہے۔
تعلیم اور کپورتھلہ آمد
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کا کثیر حصہ باغپت، ضلع میرٹھ سے حاصل کیا۔ آپ کا آبائی وطن شہر مظفر نگر تھا لیکن بعد میں اپنا وطن چھوڑ کر کپورتھلہ آگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے چچا حافظ احمد اللہ صاحب قصبہ سلطان پور، ریاست کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے۔ ان کی اولاد نہ تھی اور وہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو اپنے بیٹے کی طرح محبوب جانتے تھے، چنانچہ ان کے اصرار پر آپ کپورتھلہ آگئے۔
قبولیتِ احمدیت اور بیعت
حضرت منشی ظفر احمدؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب براہین احمدیہ پڑھنے کے بعد آپؑ کی مدح سرائی شروع کر دی۔ قریباً 1884ء میں وہ قادیان آنا شروع ہوئے۔ انہیں حضرت اقدسؑ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی شدید خواہش تھی اور کئی مرتبہ آپؑ سے عرض کرتے کہ بیعت لے لیجیے، مگر حضورؑ فرمایا کرتے کہ مجھے ابھی اس کا حکم نہیں ہوا۔
جب حضرت مسیح موعودؑ کو بیعت لینے کا حکم ہوا تو آپؑ نے حضرت منشی ظفر احمدؓ اور بعض دیگر احباب کو خط تحریر فرمایا۔ چنانچہ حضرت منشی ظفر احمدؓ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ لدھیانہ پہنچے اور حضرت مرزا غلام احمدؑ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
خدمتِ سلسلہ
حضرت منشی ظفر احمدؓ کی تحریر نہایت صاف اور خوبصورت تھی۔ جب وہ قادیان میں ہوتے تو حضورؑ کو موصول ہونے والے خطوط کے جوابات حضورؑ کی طرف سے تحریر فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان 75 احمدیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے قادیان میں 1891ء کے پہلے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔
حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی کا واقعہ
حضرت منشی ظفر احمدؓ کپورتھلوی نے ایک بہترین واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک مرتبہ دو غیر احمدی مہمان آپؑ سے ملاقات کے لیے قادیان آئے۔ جب وہ مہمان خانہ پر پہنچے تو انہوں نے لنگر خانہ کے کارکنوں سے کہا کہ ان کا سامان اتار دیں اور چارپائی بچھا دیں۔ مگر کارکنوں نے فوراً جواب نہ دیا بلکہ ان سے کہا کہ وہ خود اپنا سامان اتار لیں اور یہ بھی کہا کہ چارپائی آ جائے گی۔ تھکے ہوئے مہمانوں کو یہ جواب ناگوار گزرا اور انہوں نے بٹالہ واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔
جب حضرت مسیح موعودؑ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپؑ فوراً ان کے پیچھے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جوتے بھی صحیح طرح نہیں پہنے ہوئے تھے اور تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے۔ چند خدام بھی آپؑ کے پیچھے چل دیے۔ حضرت منشی ظفر احمدؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ اس وقت حضرت مسیح موعودؑ ان کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے یہاں تک کہ نہر کے پل کے قریب جا کر آپؑ ان تک پہنچ گئے، جو قادیان سے ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے۔
حضورؑ نے محبت و شفقت کے ساتھ ان سے معذرت کی اور اصرار فرمایا کہ واپس چلیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ان مہمانوں سے فرمایا:’’آپ لوگ گاڑی میں بیٹھ جائیں اور میں آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلوں گا‘‘ لیکن وہ شرمندگی کے باعث گاڑی پر نہ بیٹھے۔
وفات اور حسنِ خاتمہ
اگست 1941ء میں آپ بیمار ہوئے، پیچش [Dysentery] اور دست کا عارضہ تھا۔ پھر قے اور ہچکی شروع ہوئی۔ ہر قسم کا علاج کیا گیا لیکن حالت روز بروز کمزور ہوتی گئی۔ ایک دوست حکیم محمد یعقوب صاحب ملنے کے لئے آئے اور کہا منشی صاحب آپ فکر نہ کریں۔ جب وہ چلے گئے تو آپ نے بڑے استغناء سے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ:
”مجھے ذرا بھی ڈر نہیں کہ موت آئی میرا جہاز بھرا ہوا ہے۔“ مطلب یہ تھا کہ خدا کے فضل سے میرا انجام بخیر ہوگا۔
آخر 18 اگست کو کمزوری بہت ہوگئی اور آپ 20 اگست 1941ء کو انتقال کر گئے۔ حضرت منشی ظفر احمدؓ کا جسد مبارک قادیان لایا گیا اور حضرت مسیح موعودؑ کے قریب دفن کیا گیا۔ آپؓ کے وصال پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ منشی ظفر احمد صاحبؓ اُن بزرگوں میں سے تھے جو ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ رہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے ہزاروں نشانات کا چلتا پھرتا زندہ ریکارڈ تھے۔
حوالہ جات:
MA, M. S. U. D. (n.d.). Ashab-e-ahmad (Vol. 4). Salah Ud Din MA. September 26, 2025
Ashab e Ahmad Vol 14 Maulvi Hassan Ali Bhagalpuri : Malik Salahuddin
Alhakam. (2021, January 1). Coming from every distant track: Introduction. Al Hakam. https://www.alhakam.org/coming-from-every-distant-track-introduction



