مزید پڑھیں

براہینِ احمدیہ – خصوصیات  اور امتیازات

کتاب کے نام کی تفصیل اور تشریح

  • مکمل نام: البراہین الاحمدیہ علیٰ حقیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ
  • عرفِ عام: اسے عرفِ عام میں اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعد کی کتابوں میں ’’براہینِ احمدیہ‘‘ لکھا ہے۔
  • نام کا مطلب:
    • البراہین الاحمدیہ: احمدیہ دلائل۔
    • علیٰ حقیت کتاب اللہ القرآن: اللہ کی کتاب قرآن کی صداقت پر (حقیت سے مراد  حق  ثابت کرنا اور سچا ثابت کرنا ہے)۔
    • والنبوۃ المحمدیۃ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  پر۔

تاریخی پس منظر اور تصنیف کا وقت

یہ کتاب ایسے وقت میں لکھی گئی جب دنیا واقعتاً ایک مصلح (Reformer) کی محتاج تھی:

  • مسلمانوں کی اندرونی حالت: مسلمانوں کے اخلاق انتہائی نچلی سطح پر آچکے تھے۔ اس دور کے مسلمان علماء خود اقرار کر رہے تھے کہ ایمان غائب ہوچکا ہے اور مسلمانوں کا قرآن پر صرف فرضی ایمان باقی رہ گیا ہے۔
  • سیاسی زوال: مسلمانوں کی تمام حکومتیں ختم ہوچکی تھیں۔
    • اس وقت صرف حکومتِ عثمانیہ باقی تھی، جسے لوگ خلافتِ عثمانیہ کہتے ہیں، لیکن وہ خلافتِ راشدہ کے بعد آنے والی ایک ملوکیت (بادشاہت) تھی۔
    • افریقہ کے 53 مسلم ممالک پر انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کا قبضہ تھا۔
    • انڈیا پر جہاں مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی تھی، انگریزوں کا قبضہ تھا۔
    • اس کے علاوہ انڈونیشیا، ملائیشیا کثیر مسلم آبادی والے علاقوں پر بھی فرانسیسیوں اور انگریزوں کا قبضہ ہوچکا تھا۔
  • عیسائیت کی یلغار: ان فتوحات کے بعد عیسائیت کی تبلیغ کا نیا دور شروع ہوا۔ انگریزوں نے نعرہ لگایا کہ ’’ہماری حکومت اور عیسائیت پر سورج غروب نہیں ہوتا‘‘۔ (یعنی دنیا کے ہر حصے میں جہاں سورج نکلتا ہے یا ڈوبتا ہے، وہاں عیسائی موجود ہیں)۔
  • مخالفین کے دعوے اور کتابیں:
    • عیسائی پادریوں نے دعویٰ کیا کہ جلد دنیا میں کوئی مسلمان نہیں بچے گا اور خاص مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ پر یسوع مسیح کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔
    • ہندوؤں اور آریوں نے تنظیمیں بنائیں جن کا مقصد اسلام کو نیست و نابود کرنا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جلد انڈیا میں کوئی مسلمان نظر نہیں آئے گا۔
    • اسلام کو تلوار کی بجائے قلم سے ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ اسلام کے خلاف 6 کروڑ کتابیں لکھی گئیں۔
    • حضرت مسیح موعودؑ نے خود اپنی جوانی میں اسلام پر ہونے والے 3,000 کے قریب اعتراضات گنے۔
  • مسیحا کی ضرورت: انہی حالات کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:

’’وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اَور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا‘‘

(درثمین صفحہ 160)

تصنیفی دور کا آغاز اور اشاعت

  • ابتدائی مضامین (1875-1879):  حالات کے تقاضے کے تحت حضرت مسیح موعودؑ نے جہاد کا آغاز مضمون نویسی سے کیا۔ پہلا مضمون 1875 میں اخبار میں شائع ہوا۔ آپؑ عیسائیوں، ہندوؤں، اور سکھوں کو اسلام کی دعوت دیتے اور ان کے چیلنجز کا جواب دیتے۔ 1878-79 میں اس کام میں تیزی آگئی۔
  • پرانی تحریریں: دعوے سے قبل لکھے گئے ان ابتدائی مضامین کو بعد میں اکٹھا کر کے 1899 میں ’’پرانی تحریریں‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ جب روحانی خزائن مرتب ہوئی تو اسے جلد دوم میں براہینِ احمدیہ (جو کہ آپ کی باقاعدہ پہلی کتاب ہے) کےبعد رکھا گیا۔
  • براہینِ احمدیہ کا ارادہ: محض مضامین کو ناکافی سمجھتے ہوئے، خدا تعالیٰ نے آپؑ کے دل میں ڈالا کہ اسلام کی صداقت پر کم از کم 300 دلائل پر مبنی ایک بڑی اور مستقل کتاب لکھی جائے۔ آپؑ کا ارادہ تھا کہ ہر جلد میں 6 دلائل کے حساب سے قریباً 50 جلدوں میں یہ کتاب مکمل کی جائے۔
  • جلدوں کی اشاعت:
    • حصہ اول و دوم: 1880
    • حصہ سوم: 1882
    • حصہ چہارم: 1884
    • حصہ پنجم: 1905

براہینِ احمدیہ کی 10 نمایاں خصوصیات

(i)        مرکزی اور سب سے اہم کتاب

یہ آپؑ کی سب سے نمایاں کتاب ہے۔ دعوے کے بعد قریباً ہر کتاب میں آپؑ نے براہین احمدیہ میں درج الہامات اور پیشگوئیوں کے پورے ہونے کا حوالہ دیا ہے۔ مخالفین بھی سب سے زیادہ اسی کتاب (اس کے دلائل، جلدوں، اور پیسوں کے حوالے سے) پر اعتراضات کرتے ہیں۔

(ii)       حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کی ’سورۃ فاتحہ‘

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مطابق، جس طرح سورۃ فاتحہ پورے قرآن کا انڈیکس (Index) ہے، اور اس کے مضامین پورے قرآن میں پھیلے ہیں، اسی طرح براہین احمدیہ حضرت مسیح موعودؑ کی آئندہ تمام کتابوں کی بنیاد ہے۔ (حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی دنیا کے کسی بھی علم کے لحاظ سے قرآن پر اعتراض کرے گا تو میں سورۃ فاتحہ سے اس کا جواب دوں گا)۔

(iii)      کتاب کے متعلق سابقہ پیشگوئیاں

بظاہر نام لے کر اس کتاب کی پیشگوئیاں موجود ہیں:

  • امام یحییٰ بن عقب کی پیشگوئی: چھٹی صدی ہجری کے اس بزرگ نے لکھا: ’’ویاتی بالبراہین اللواتی تسلمہا البریۃ بالکمال‘‘ ( وہ ایسے براہین لائے گا جنہیں ماننے پر مخلوق مجبور ہوگی)۔ آپؑ نے اپنی پہلی کتاب کا نام یہی ’براہین‘ رکھا۔
  • غارِ انطاکیہ اور وقت کی پیشگوئی: شیعہ روایات میں ہے کہ امام مہدی ’غارِ انطاکیہ‘ سے صحیفے برآمد کریں گے۔ انطاکیہ شام کا شہر ہے جومسیح ؑ کے واقعۂ صلیب کے بعد عیسائیت کا پہلا مرکز بنا۔ بزرگان نے تحقیق کی کہ اگر حسابِ ابجد (حسابِ جمل: الف، ب، ج، د) کے مطابق ’غارِ انطاکیہ‘ کے اعداد نکالے جائیں تو وہ 1297 بنتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے خود کتاب کے لئے ’یا غفور‘ کے اعداد نکالے جو 1297 بنتے ہیں۔ ہجری سال 1297، عیسوی سال 1880 کے برابر ہے، جو ٹھیک اس کتاب کی اشاعت کا سال ہے۔

(iv)      حضرت مسیح موعودؑ کی اپنی رویا (خواب)

اشاعت سے 15 سال قبل (جب آپؑ کی عمر قریباً 30 سال تھی)، آپؑ نے خواب میں دیکھا کہ:

  •  آپ رسول اللہ ﷺ (جو کرسی پر بیٹھے ہیں) کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور انہیں اپنی لکھی ہوئی کتاب ’’قطبی‘‘ پیش کرتے ہیں۔
  • پھل اور شہد: وہ کتاب ایک پھل بن جاتی ہے، جس کا حجم تربوز (Watermelon) جتنا اور شکل امرود جیسی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اسے کاٹتے ہیں تو اس سے اتنا شہد نکلتا ہے کہ آپ ﷺ کے ہاتھوں سے لے کر کہنیوں (Elbows) تک بھر جاتا ہے۔
  • مردے کا زندہ ہونا: آپ ﷺ وہ پھل کا ایک ٹکڑا مسیح موعودؑ کو دے کر فرماتے ہیں کہ دروازے پر پڑے مردے کو دے دو۔ وہ ٹکڑا کھاتے ہی مردہ (جو بہت کمزور تھا) سیدھا کھڑا ہوجاتا ہے اور اس کا چہرہ چمکنے لگتا ہے۔
  • کرسی کا بلند ہونا: رسول اللہ ﷺ کی کرسی زمین سے بلند ہوتے ہوتے اتنی اونچی ہوجاتی ہے کہ جہاں تک نظر جائے، اور آپ ﷺ کے چہرے سے جلال اور نور کی کرنیں نکلتی ہیں۔
  • تعبیر: قطبی ستارہ وہ ہے جو شمال میں طلوع ہوتا ہے اور اپنی جگہ نہیں بدلتا۔ یہ مضبوط دلائل کی علامت تھی جن کا جواب کوئی دشمن نہ دے سکا۔ مردے سے مراد اسلام کا مردہ حال تھا جو اس کتاب اور آئندہ کتابوں کے دلائل سے زندہ ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کے جلال کا غلبہ ہوا۔

(v)       تمام مذاہبِ عالم سے تخاطب

پچھلے مجددین اور فقہاء (جیسے بغداد اور کوفہ میں عبدالقادر جیلانی، امام ابو حنیفہ، یا سپین کے بزرگان) نے صرف اپنے مقامی علاقے کے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ جبکہ مسیح موعودؑ نے اس کتاب میں تمام عالم (ہندوؤں، آریوں، عیسائیوں  دہریوں  وغیرہ) کو مخاطب کیا۔ یہ خدا کی تقدیر تھی کہ انڈیا میں اس وقت تمام مذاہب موجود تھے۔ (1896 کے جلسہ مذاہبِ عالم لاہور میں 17 مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نمائندے جمع ہوئے تھے)۔

(vi)      300 دلائل اور الہٰی سکیم

آپؑ نے 50 جلدوں میں 300 دلائل لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جب 4 جلدیں چھپ گئیں تو اللہ نے آپ کو مامور کر دیا (جیسے کوئی رضاکارانہ کتابیں لکھ رہا ہو اور جماعت اسے شعبہ تصنیف میں ڈال دے، تو وہ سکیم کے تابع ہوجاتا ہے)۔ اگرچہ ظاہری طور پر نمبر وار 300 دلائل نہیں لکھے گئے، لیکن خدا نے ان کی بنیادیں اس کتاب میں رکھ دیں۔ اس میں 80 کے قریب عناوین قائم کیے گئے ہیں جنہیں کھول کر باآسانی 300 دلائل مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ 1905 میں حصہ پنجم: اس میں آپؑ نے مذہب کی سچائی کی دو بنیادی شرائط بیان کر کے ظاہری تکمیل کر دی: (1) مذہب کی تعلیم کامل ہو، (2) وہ مذہب زندہ ہو (خدا سے تعلق قائم کرائے)۔

(vii)     10 ہزار روپے کا انعام

حضرت مسیح موعودؑ نے چیلنج کیا کہ جو اس کتاب کے دلائل توڑ دے، یا چوتھا/پانچواں حصہ بھی جواب میں لکھ لائے، اسے 10,000 روپے انعام دیا جائے گا۔ (اس وقت آپؑ کی کل جائیداد کی مالیت 10 ہزار تھی، جو آپؑ دینے کو تیار تھے)، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

(viii)    ابتدائی صحابہ کی تیاری

براہین احمدیہ ہی وہ کتاب ہے جسے پڑھ کر ابتدائی بیعت کرنے والے تیار ہوئے۔ تحقیق کے مطابق کم از کم 40 ایسے بڑے صحابہ ہیں جنہوں نے خالصتاً یہ کتاب پڑھ کر بیعت کی، اور ان میں سے کئی اس قدر متاثر ہوئے کہ بغیر کسی اور محرک کے بیعت کی۔

(ix)      پاکیزہ زندگی کی گواہیاں

اسی کتاب کی بدولت آپؑ کی دعوے سے قبل کی پاکیزہ زندگی کی گواہیاں اکٹھی ہوئیں۔ کٹر مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی نے ’اشاعۃ السنہ‘ میں 200 صفحات پر مشتمل ریویو لکھا۔ اس نے گواہی دی کہ: ’’پچھلے مسلمانوں میں اسلام کی ایسی خدمت کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔‘‘

’’میں اور مرزا صاحب ہم مکتب (کلاس فیلو) ہیں۔ میں نے ان سے بڑھ کر صداقت شعار کوئی نہیں دیکھا۔ کوئی ان پر جھوٹ یا دغا کا الزام نہیں لگا سکتا۔‘‘ بٹالوی نے کتاب میں درج انگریزی الہامات پر ہونے والے اعتراضات کا دفاع بھی کیا اور تسلیم کیا کہ آپ کی پیشگوئیاں سچی نکلتی ہیں۔ بعد میں یہی شخص سب سے بڑا مخالف بنا، اس لیے یہ کتاب نہ ہوتی تو یہ مستند گواہیاں محفوظ نہ ہوتیں۔

(x)       مخالفت کا آغاز

دشمنوں کی جانب سے مخالفت کا باقاعدہ آغاز بھی اسی کتاب سے ہوا۔ کٹر ہندو آریہ لیڈر لیکھرام سے پہلا رابطہ اسی کتاب کے ذریعے ہوا۔ اس نے مخالفت میں ’’تکذیبِ براہین احمدیہ‘‘ لکھی، جس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ’’تصدیقِ براہین احمدیہ‘‘ لکھی۔

ایک سوال

سوال 1: براہین احمدیہ میں اسلام کی سچائی کی سب سے مضبوط دلیل کون سی ہے؟

جواب: حصہ پنجم کے مطابق سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ زندہ مذہب وہ ہے جس کا خدا آج بھی بولتا ہے، کلام کرتا ہے، پیشگوئیاں کرتا ہے اور دعائیں سنتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مثال: رسول اللہ ﷺ یتیم اور انتہائی بے بس حالت میں اٹھے، مکہ اور مدینہ میں سب دشمن ہو گئے (یہودیوں نے سازشیں کیں)، لیکن خدا نے بے بسی کی حالت میں غلبے اور فاتحانہ داخلے کی پیشگوئیاں کیں۔ آپ ﷺ 10 ہزار جانثاروں کے ساتھ مکہ میں فاتح بن کر داخل ہوئے۔ تاریخِ مذہب میں کسی اور نبی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا جو نکالے جانے کے بعد اپنی زندگی میں فاتح بن کر واپس آیا ہو۔

حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، اور حضرت عیسیٰؑ اپنے علاقوں میں واپس نہیں جا سکے۔

حضرت داؤدؑ کو بنی بنائی حکومت ملی۔

مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں: آپؑ کی اپنی پیشگوئیاں- دنیا اسے قبول نہیں کرے گی لیکن خدا بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا) پوری ہوئیں۔ زور آور حملوں میں بیماریاں، زلزلے، اور لیکھرام سے لے کر امریکہ کے ڈوئی تک پر عذاب نازل ہونا شامل ہیں۔ یہ غیب کی خبریں اور نصرتِ الہیٰ سب سے بڑی دلیل ہے۔ میرے مطابق براہین میں کم از کم 10 بڑی پیشگوئیاں خالص آپؑ کی ذات اور جماعت سے متعلق ہیں۔