مزید پڑھیں

ایران کے پہلے احمدی مبلغ  حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحبؓ 

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ  نے 12 جولائی 1924ء کو حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب ؓ   لدھیانوی کو ایران میں احمدیہ مرکز قائم کرنے کے لئے روانہ فرمایا۔ آپ ضعیف العمر بزرگ اور قدیم صحابہ  مسیح موعود میں سے تھے۔ انہوں نے یہ عزم کیا تھا کہ وہ جماعت سے کچھ بھی نہ لیں گے۔ ایران کے سفر پر روانگی سے پہلے انہیں ایک عرصہ تک قادیان میں قیام کرنا پڑا جس کی وجہ سے پہلا سرمایہ بھی ختم ہوگیا۔ مگر آپ نے اس کا کسی سے ذکر نہیں کیا اور شدید نامساعد حالات میں ایران پہنچ کر تبلیغ  کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور اسی حالت میں 1928ء میں اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔آپ کی عظیم الشان قربانیوں کو حضرت مصلح موعود نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔

یہ ایران کے لئے مبارک بات ہے کہ وہاں خداتعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو وفات دی جسے زندگی میں دیکھنے والے ولی اللہ کہتے تھے اور جسے مرنے پر شہادت نصیب ہوئی۔

(الفضل 27 مارچ 1928 ٫)

آپ کے آخری ایام کے حالات مرزا برکت علی صاحب امیر جماعت ایران نے الحکم 1934ء میں شائع کرائے۔ اس میں سے کچھ حصہ احباب کی خدمت میں پیش ہے۔ مرزا برکت علی صاحب لکھتے ہیں۔پچھلے دنوں میاں محمد خان صاحب موٹر ڈرائیور تہران سے آئے ہوئے تھے، میں نے ان سے شہزداہ صاحب مرحوم اور وہاں کے احمدیوں کے حالات دریافت کئے تو انہوں نے بتایا۔ 

پہلی ملاقات:

حضرت خلیفة المسیح الثانی نے جب شہزادہ عبدالمجید صاحب کو دعوت الی اللہ کے لئے ایران جانے کی اجازت دی۔ تو مرحوم بہت سی تکلیفوں کے بعد تہران پہنچے۔ اتفاقاً جس شخص کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ہوئی اسی سے انہوں نے رہائشی مکان کے متعلق دریافت کیا۔ اس پر وہ شخص ان کو اپنے مکان میں لے گیا اور اسی میں رہنے کے لئے اپنی خواہش ظاہر کی۔ اس مکان کا کرایہ 2تو مان (ایرانی سکہ) تھا ایک ہی کمرہ تھا۔ مرحوم نے وہیں رہنا پسند کیا اور نصف کرایہ اپنے ذمہ لے لیا۔یہ مکان خیابان چار راہ شیخ ہادی کا بالاخانہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں مرحوم نے ایک سال تک قیام فرمایا آپ کی محبت اور اخلاق کا اس شخص پر یہ اثر ہو کہ کچھ دنوں بعد وہ احمدی ہوگیا۔

پہلا کام:

حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ان کو قادیان سے روانہ کرنے سے پہلے رؤیا میں دیکھا تھا کہ وہ خانقاہ درویش میں سیدنا حضرت مسیح موعود کے فارسی اشعار پڑھ کر سنا رہے ہیں اور تمام درویش اشعار سن کر وجد کی حالت میں جھوم رہے ہیں شہزادہ صاحب نے تہران میں پہنچ کر سب سے پہلے یہ کام کیا کہ خانقاہ درویش کا پتہ لگایا۔ خانقاہ معلوم کرکے وہاں پہنچے۔ تو دیکھا کہ بہت سے درویش بیٹھے ہیں سلام دعاکے بعد انہوں نے اشعار پڑھنے شروع کردیئے۔ شعر سن کر خانقاہ کے درویش جھومنے لگے۔ جب اشعار ختم کرچکے تو پھر تبلیغ کی۔مرحوم اپنے ساتھ ”دعوت الامیر” کے پچاس نسخے لائے تھے جو سب کے سب تقسیم کردیئے۔ صرف ایک نسخہ ان کے پاس تھا جو وفات کے بعد محمد خان صاحب کے ہاتھ آیا اور اب اس وقت میرے پاس موجود ہے۔ عام طور پر تبلیغ کے لئے پہلے ملاقات کرکے وقت مقرر کرلیا کرتے تھے اور پھر وقت پر پہنچ کر پیغام حق پہنچاتے ایسے بعض لوگوں کے نام اور پتے اس نسخہ میں تحریر ہیں۔شہزادہ صاحب تھوڑے ہی عرصہ میں سب طرف مشہور ہوگئے۔ جدھر جاتے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ مخالف آپ پر آوازیں کستے۔ لیکن آپ بالکل پرواہ نہ کرتے اور اپنے فرض کو پوری طرح اپنی طاقت سے بڑھ کر ادا کرتے۔

تکالیف:

ایک روز آپ خیابان پارچنار میں جارہے تھے کہ ایک دشمن نے پیچھے سے پکڑ کر دبالیا۔ چونکہ آپ جسم کے بہت نازک اور پھر بڑھاپے کی وجہ سے بہت کمزور تھے اور قریب تھا کہ آپ کی کوئی پسلی ٹوٹ جائے کہ ایک شخص نے اس کو پکڑ کر بہت برا بھلا کہا اور وہ شرمندہ ہوکر چلا گیا۔
آپ کو آپ کے مہربان دوست عموماً کہا کرتے تھے کہ آپ رات کے وقت باہر نہ نکلا کریں۔ کیونکہ بعض دشمن چاہتے ہیں کہ آپ کو مار ڈالیں۔ لیکن آپ فرماتے کہ مجھے موت کا بالکل ڈر نہیں۔ صبح و شام باقاعدہ تبلیغ کے لئے جایا کرتے تھے اور کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ ایک روز آپ تبلیغ کے لئے جارہے تھے کہ چند آدمیوں کی ٹولی نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا مگر آپ تبلیغ میں مشغول رہے اتنے میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیا۔ خدا کی قدرت کہ اس ٹولی میں سے ایک شخص نے دھکا دینے والے کو وہیں پیٹا۔ مرحوم دعوت الی اللہ کا کام ایک جوان مربی سے بڑھ کر کیا کرتے تھے اور لوگ آپ کو ”پیر مرد دیو انہ است” کہتے تھے۔

سامان کی کمی:

مرحوم جس مکان میں رہتے تھے۔ وہاں ان کے پاس چند کتابیں اور بستر کے علاوہ کوئی سامان نہ تھا۔ تاہم بعض شریر لوگ چوری کی غرض سے آتے اور جب موقع ملتا کوئی کتاب ہی اٹھا کرلے جاتے۔ آپ کی مالی حالت ایسی کمزور تھی کہ اس کی وجہ سے آپ کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا۔ چونکہ یہ سرد علاقہ ہے اور سردی بھی شدت سے پڑتی ہے اور آپ کے پاس کافی گرم بستر بھی نہ تھا۔ اس لئے شام کو جب تبلیغ  کرکے آپ واپس مکان کو تشریف لاتے تو راستہ سے کاغذ اٹھا کر لے آتے اور رات کو کاغذ جلا کر لحاف گرم کرتے۔ اس طرح سردیوں میں راتیں کاٹتے تھے اور ماہ رمضان میں آپ کے پاس جب کچھ نہ ہوتا تو چنے کھا کر روزہ رکھا کرتے تھے۔

تین رؤیا:

شہزادہ صاحب کو یہاں کے مخالفین کے متعلق تین رؤیا دکھائے گئے۔ جن کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بہت جلد ذلیل ہوں گے چنانچہ آج کل جتنی ان کی ذلت ہے وہ کسی کی نہیں۔شہزادہ صاحب ایک سال تک اس بالاخانہ پر رہے۔ پھر وہاں سے مکان تبدیل کرکے کارواں سرائے میں چلے گئے۔ مرحوم نے اپنی وفات سے پہلے ایک رؤیا دیکھا کہ ایک سفید کاغذ ہے۔ آپ کے ہاتھ پر سفید دستانہ چڑھا ہو اہے اور کچھ لکھ رہے ہیں اور رخ دروازہ عبدالعظیم کی طرف ہے (یہ دروازہ قبرستان کی طرف جانے والے راستہ کا ہے) اس رؤیا سے چند روز بعد آپ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ 

(الحکم 7 ۔اکتوبر 1934ء صفحہ 8)