مزید پڑھیں

اشاعت تفسیر کبیر

قرآن کریم: مسلمانوں کی عظیم الشان نعمت

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وہ کامل اور جامع کتاب ہے جسے قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب انسان کی روحانی اور اخلاقی ترقی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا:

فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا 

پس کافروں کی پیروی نہ کر اور اس (قرآن) کے ذریعہ اُن سے ایک بڑا جہاد کر۔ 

(الفرقان: 52)

 یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ قرآن نہ صرف روحانی جہاد کا ذریعہ ہے بلکہ ہر قسم کے باطل نظریات کا جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’فتنوں کے دور میں کتاب اللہ ہی رہنمائی کا ذریعہ ہوگی‘‘

(ترمذی، کتاب الفتن)

تاہم، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے وقت گزرنے کے ساتھ اس عظیم نعمت کی حقیقی قدروقیمت کو بھلا دیا۔ قرونِ اولیٰ کے بعد قرآن کریم کا زیادہ تر استعمال رسمی عبادات اور تزئین و آرائش تک محدود ہو کر رہ گیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس زوال کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی قرآن فہمی کی کمی اور اسے عمل کا ذریعہ نہ بنانے کو قرار دیا۔ آپ نے اپنے دروس اور تحریرات کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن کے اصل معانی اور تعلیمات کی طرف متوجہ کیا۔

قرآن کریم پر مخالفین کے حملے اور اعتراضات

مغربی دنیا میں یورپی اقوام کے سیاسی اور علمی غلبے کے ساتھ ہی قرآن کریم پر اعتراضات کا ایک منظم سلسلہ شروع ہوا۔ عیسائی مشنریوں اور مستشرقین نے قرآن کو اپنی تنقید کا خاص نشانہ بنایا، تاکہ اس کی حقانیت کو مشکوک بنایا جا سکے۔ ان کے اعتراضات میں قرآن کی ترتیب، تاریخی بیانات، اخلاقی تعلیمات، اور اس کی زبان کی ترکیب شامل تھے۔ مستشرقین کی جانب سے کیے گئے انگریزی تراجم، جیسا کہ Alexander Ross (1649ء) اور George Sale (1734ء) کے کام، نہ صرف علمی معیار سے گرے ہوئے تھے بلکہ ان میں واضح طور پر تعصب اور اسلام سے  دشمنی جھلکتی تھی۔ حضورؓ نے مزید  تحقیق سے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ تراجم براہ راست عربی زبان سے نہیں ہوئے تھے بلکہ دوسری زبانوں کے ناقص تراجم سے۔

حضرت مصلح موعودؓ نے ان اعتراضات کے تاریخی اور فکری پہلوؤں کا تجزیہ کیا۔ آپ نے اپنی معرکۃ الآرا تفسیر  بنام ’’تفسیر کبیر‘‘ میں مستشرقین کے علمی نقائص کو نمایاں کرتے ہوئے ان کے اعتراضات کا مدلل جواب دیا۔ آپ نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ ان تراجم کی بنیاد زیادہ تر غیر مستند ماخذوں پر تھی، اور ان کے پیچھے ایک مخصوص پروپیگنڈا کارفرما تھا۔ آپ کے دلائل نے مسلمانوں کو علمی میدان میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے تیار کیا۔

براہین احمدیہ کی اشاعت: قرآن کے دفاع کی ابتدا

حضرت مسیح موعودؑ نے 1880ءمیں ’’براہین احمدیہ‘‘  کی پہلی جلد شائع کر کے قرآن کریم کے دفاع اور اس کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا آغاز کیا۔ یہ کتاب اس وقت کے تمام مذاہب کے علمائے کرام کے لیے ایک چیلنج تھی، جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن کے پیش کردہ دلائل کا مقابلہ کسی اور الہامی کتاب میں ممکن نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے براہین احمدیہ میں قرآن کریم کی روحانی عظمت اور علمی برتری کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے اور مخالفین کو دعوت دی کہ وہ ان دلائل کا رد کریں یا اپنی الہامی کتب میں ان جیسی مثالیں پیش کریں۔

حضرت مصلح موعودؓ نے براہین احمدیہ کی اس روح کو آگے بڑھایا اور’’تفسیر کبیر‘‘ کے ذریعے قرآن کے معارف و اسرار کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا۔ آپ نے واضح کیا کہ قرآن کریم کا دفاع محض ایک علمی یا منطقی ضرورت نہیں بلکہ امت مسلمہ کی روحانی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

تفسیر کبیر کی تصنیف کا پس منظر  ایک الٰہی منشا کے ما تحت

حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے قرآنی علوم کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا، اور اس حوالے سے آپ کو ایک انتہائی غیر معمولی رؤیا عطا ہوئی جس نے آپ کی زندگی کا رخ متعین کر دیا اور  یہ بشارت دی کہ آپ قرآن کی خدمت کے لیے ایک عظیم الشان  کام سرانجام دیں گے ۔ اس رؤیا میں آپ نے ایک فرشتے کو دیکھا، جو آپ کو قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت، یعنی سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھا رہا تھا۔ یہ رؤیا اس وقت کی ہے جب آپ طالب علمی کے ابتدائی دور میں تھے، اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم کی خدمت کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

اس رؤیا میں فرشتہ آپ کو تفسیر سکھاتے ہوئے سورۃ فاتحہ کی آیت

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

تک پہنچا اور کہا کہ ماضی کے تمام مفسرین نے یہاں تک لکھا ہے مگر تجھے اس سے آگے سکھایا جائے گا۔  یہ رؤیا اس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے ان قرآنی معارف کو اجاگر کرنے کے لیے چنا ہے جنہیں ماضی کے مفسرین مکمل طور پر بیان نہ کر سکے۔

آپ نے اس الہامی رہنمائی کو اپنی عملی زندگی میں شامل کیا اور قرآنی معارف کو اس طرح بیان کیا کہ دنیا کے سامنے قرآن کی عظمت، صداقت اور اعجاز کا ایک نیا پہلو ظاہر  ہوگیا۔ تفسیر کبیر اسی عظیم رؤیا کی تکمیل کا ایک عملی مظہر ہے، جو رہتی دنیا تک قرآن کریم کے زندہ معجزہ ہونے کی گواہی دیتی رہے گی۔

آپؓ نے 1928ء میں قادیان میں ایک تفسیری درس کا آغاز کیا، جہاں آپ نے سورۃ یونس سے سورۃ کہف تک پانچ پاروں کی تفسیر بیان کی۔ اس درس کے دوران روزانہ گھنٹوں طویل نشستیں ہوتی تھیں، جن میں قرآن کے گہرے معانی پر روشنی ڈالی جاتی تھی۔ بعد ازاں، ان تفسیری نکات کو تحریری شکل   دینے کا عزم حضرت مصلح موعود  رضی اللہ تعالی عنہ نے1940ءکے آغاز میں کیا اور اس کے لیے مولوی محمد اسماعیل صاحبؓ حلال پوری نے آپکی معاونت کی اور ان کی وفات کے بعد یہ سعادت مولوی ابو المنیر  نور الحق صاحب  اور ان کے ساتھ چند اور اصحاب کو نصیب ہوئی۔ لہذا اسی سال کہ جلسہ سے پہلے پہلے  ’تفسیر کبیر‘ کی پہلی جلد منظر عام پر آئی۔ یہ تفسیر علمی اور روحانی دونوں لحاظ سے ایک شاہکار تھی۔

قرآن کریم کی چند منفرد خصوصیات

’’تفسیر کبیر‘‘ کئی لحاظ سے دیگر تفاسیر سے ممتاز ہے۔ 

قرآن کی تشریح قرآن سے:

 حضرت مصلح موعودؓ نے یہ اصول اپنایا کہ قرآن کریم کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے خود قرآن کی دیگر آیات کو بطور تشریح استعمال کیا جائے۔ اس طریقے سے نہ صرف آیات کا باہمی ربط واضح ہوا بلکہ قرآن کے گہرے معانی سامنے آئے۔

سائنسی حقائق کی وضاحت:

 اس تفسیر میں جدید سائنسی ترقی کے تناظر میں قرآنی آیات کی وضاحت کی گئی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے کائنات، زمین، اور انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآنی تعلیمات کو سائنسی تحقیقات کے ساتھ پیش کیا، جس سے قرآن کی آفاقیت اور ہمہ گیری ثابت ہوئی۔

اعتراضات کا رد:

 مغربی مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے عقلی، تاریخی، اور علمی دلائل فراہم کیے۔ آپ نے واضح کیا کہ یہ اعتراضات تعصب یا لاعلمی کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔

تاریخی اور آثار قدیمہ کے شواہد:

 آپ نے قرآن میں بیان کردہ تاریخی واقعات کو آثار قدیمہ کی دریافتوں کی روشنی میں بیان کیا، جس سے قرآن کی صداقت اور الہامی حیثیت کا ثبوت فراہم ہوا۔

ترتیبِ قرآن کے اعتراضات کا جواب

حضرت مصلح موعودؓ نے مستشرقین کی جانب سے ترتیبِ قرآن پر کیے گئے اعتراضات کو تفصیلی دلائل کے ساتھ رد کیا۔ آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کی موجودہ ترتیب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہے، اور ہر سورۃ اور آیت کی اپنی جگہ پر ایک حکمت پوشیدہ ہے۔

آپ نے ترتیبِ قرآن کو ایک علمی معجزہ قرار دیا اور اس کے اندرونی ربط کو واضح کیا۔ مغربی محققین، جیسے Carlyle اور  Rodwell  نے ترتیب ِقرآن پر سوالات اٹھائے، لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے علمی دلائل سے ان کے خیالات کو بےبنیاد ثابت کیا۔

تحقیق کے نئے میدان

تفسیر کبیر نے نہ صرف تفسیری علوم بلکہ قرآنی تحقیق کے نئے میدان کھولے۔ اس تفسیر نے قرآنی پیشگوئیوں، سائنسی حقائق، اور تاریخی واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کی صداقت کو واضح کیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن ہر زمانے کے لیے ایک زندہ معجزہ ہے اور اس کے معانی وقت کے ساتھ ساتھ  مزید کھلتےرہیں گے۔

یہ تفسیر موازنہ مذاہب کے مطالعے میں ایک اہم اضافہ ہے کیونکہ اس میں موجودہ دور کے اختلافی مسائل پر دوسرے مذاہب کے نقطہ نظر کو بیان کیا گیا ہے، اور ان کی مقدس کتابوں کے حوالے دے کر اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ لہذا تفسیر کبیر محض ایک تفسیر نہیں بلکہ قرآن کی عظمت کو اجاگر کرنے کا ایک تاریخی اور علمی کارنامہ ہے جس سے اسلام کی برتری میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔

ہماری  ذمہ داری 

 حضرت مصلح موعودؓ نے اس تفسیر کی تصنیف میں بے پناہ محنت، خلوص اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ یہ صرف ایک علمی کاوش نہیں تھی بلکہ ایک جہاد کبیر تھا، جو آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت مسلمہ کی فکری و روحانی ترقی کے لیے انجام دیا۔

حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر کو تحریر کرتے وقت اپنی جسمانی صحت، نیند اور سکون کو پس پشت ڈال دیا۔ آپ اکثر رات بھر جاگ کر کام کرتے، اور بسا اوقات عشاء کے بعد کام کا آغاز ہوتا تو فجر تک جاری رہتا۔ کثرت کار کی وجہ سے آپ کی صحت پر گہرا اثر پڑا، لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس عظیم کام کو جاری رکھا۔ آپ کی زندگی کے یہ لمحات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ تفسیر محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک روحانی جہاد کا ثمرہ ہے۔

اس مشقت اور محنت کا قصہ حضرت مصلح موعود  رضی اللہ عنہ نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے:  

’’پس بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اس کام کی وجہ سے دو ماہ سے انتہائی بوجھ مجھ پر اور ایک ماہ سے میرے ساتھ دوسرے کام کرنے والوں پر پڑا ہوا ہے۔ یہ بوجھ عام انسانی طاقت سے بڑھا ہوا ہے اور زیادہ دیر تک برداشت کرنا مشکل ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور نصرت نہ ہو ۔۔۔ میں اس سے زیادہ اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ کیونکہ اس وقت میری یہ حالت ہے کہ مجھے متلی ہو رہی ہے۔ منہ کڑوا ہے ۔ سردی لگ رہی ہے۔ اور اتنا بولنا بھی دوبھر ہے۔ پھر میں ان دونوں باتوں کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں یعنی خدا تعالیٰ جلسہ سالانہ تک مجھے تفسیر القرآن کے کام کو خیر و خوبی اور صحت کے ساتھ ختم کرنے کی توفیق دے۔ اور جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں، انہیں اپنے فضل اور رحم سے اپنے پاس سے اجر عطا فرمائے ۔ “

(سلسلہ احمدیہ جلد دوم صفحہ  89)

پس ہم پر لازم ہے کہ ہم اس تفسیر کو پڑھیں اور اس سے علم و عرفان حاصل کریں، کیونکہ یہ وہ خزانہ ہے جسے سمجھنے کے لیے حضور نے اپنی جان لڑا دی۔ یہ تصنیف ہمیں نہ صرف قرآن کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے بلکہ ہمارے ایمان کو تازگی بخشتی ہے اور ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قرآن کے حقیقی معانی کیا ہیں۔ ہمیں حضرت مصلح موعودؓ کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اس کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن کے نور سے منور کر سکیں۔

یہ تفسیر ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ دین کی خدمت میں کی جانے والی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے اس علم کا حصول  کرنا چاہیے جو ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی کا ذریعہ بن سکے۔  اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ایک دلچسپ حقیقت

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ George Sale کے قرآن کے انگریزی ترجمے کو جدید دور تک دوبارہ شائع کیا جاتا رہا ہے۔ جنوری 2007 میں، امریکہ کے کانگریس کے پہلے منتخب مسلم رکن، Keith Ellison، نے اپنے حلف کے لیے قرآن کے جس نسخے کا انتخاب کیا، وہ George Saleکے 1764 میں شائع شدہ ترجمے کا ایڈیشن تھا۔ یہ نسخہ Thomas Jefferson نے 1815 میں لائبریری آف کانگریس کو فروخت کیا تھا۔

یہ واقعہ نہ صرف تاریخی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کس طرح مستشرقین کے کیے گئے تراجم مغربی دنیا میں قرآن کے بنیادی ماخذ کے طور پر دیکھے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، یہ تراجم اکثر غیر معیاری اور تعصب پر مبنی ہوتے تھے۔ جارج سیل کے ترجمے کو مغربی دنیا میں ایک معتبر ترجمے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن حقیقت میں اس میں قرآن کے حقیقی معانی کو مسخ کیا گیا تھا اور اس کے دیباچے میں قرآن کے خلاف گستاخانہ زبان استعمال کی گئی۔

یہی وہ پس منظر تھا جس میں ’’تفسیر کبیر‘‘  جیسی علمی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں نہ صرف قرآن کے حقیقی معانی کو واضح کیا بلکہ مغربی مستشرقین کے ان اعتراضات کا بھی مدلل اور جامع جواب دیا جو جارج سیل جیسے مترجمین نے پیدا کیے۔ اس تفسیر نے دنیا کے سامنے قرآن کی اصل روح کو نمایاں کیا اور مسلمانوں کو ان غلط فہمیوں کے خلاف علمی ہتھیار فراہم کیے جو مغرب میں صدیوں سے پیدا کی جا رہی تھیں۔