داعیان الی اللہ اور ہر مذہب و ملت میں تبلیغ کرنے والوں کے لئے

- اسلام کے لغوی معنی اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں اور اصطلاحی طور پر یہ اس دین یا آسمانی پیغام کا نام ہے جو آج سے قریبا 14 سو سال قبل عرب کے علاقے میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔ اور احمدیت اسلام کی اس سچی اور خالص تشریح کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں آنے والے مامور حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو سکھائی۔
- اسلام کوئی نیا دین نہیں بلکہ اس سے پہلے آنے والے مختلف انبیاء کے پیغام کی جامع اور مکمل اور آخری شکل ہے۔ سب ادیان کے ماننے والے خدا کی نظر میں مسلم تھے مگر اب محمد رسول اللہ ﷺ کو ماننے والوں کو مسلم یا مؤمن کہا جاتا ہے۔
- حضرت محمد ﷺ 570ء عیسوی میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پر 23 سال خدا کا کلام نازل ہوتا رہا جس کو خود خدا نے قرآن کا نام دیا ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ۔ چنانچہ اب یہ کتاب دنیا کی کم از کم 76 زبانوں میں تراجم کے ساتھ موجود ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور لکھی جانے والی کتاب ہے اور لاکھوں لوگوں کو پوری طرح یاد ہے۔
- محمد رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے تمام احکام پر عمل کر کے سنت قائم کی اور اعلیٰ ترین اخلاق کا نمونہ دکھایا۔ دعویٰ سےپہلے بھی آپ کی ساری قوم آپ کو صادق اور امین کہتی تھی اور آپ کا کردار آج بھی اسوہ حسنہ ہے۔
- اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اس دنیا کا ایک ہی خالق اور مالک ہے جس کا ذاتی نام اللہ ہے اور وہ لامحدود صفات حسنہ کا جامع ہے اور تمام بد خصائل سے پاک ہے۔ اس کا کوئی بیٹا، کوئی ہمسر اور کوئی شریک نہیں۔ اس کے علاوہ سب کچھ فانی ہے۔اس کا الہام اور کلام ہمیشہ جاری ہے ۔
- اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات کو نہایت حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ۔ جس کا مرکزی نقطہ انسان ہے ۔ اسی لئے تمام زمین و آسمان کو انسان کے لئے مسخر کر دیا گیا ہے ۔انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ صرف انسان ہی خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنا کر اپنے محدود دائرے میں ان کو ظاہر کر سکتاہے اور یہی انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور یہ امتحان جاری ہے کہ کون نیکیوں میں آگے بڑھتا ہے ۔اس کے حساب کے لئے خدا نے دوسری دنیا مقرر کی ہے جس میں جنت اور جہنم کا فیصلہ ہو گا اور یہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
- تمام انسان خدا کی نظر میں برابر ہیں۔ کسی کو رنگ، نسل ،قوم، ملک، طاقت، اور دولت کی وجہ سے کوئی فضیلت نہیں۔ انتظامی امور میں بعض بعض پر فوقیت رکھتے ہیں مگر خدا کے نزدیک معزز وہ ہے جو اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے۔
- خدا نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے ہر قوم اور ہر علاقہ میں رسول اور نبی مبعوث کیے۔ مگر چونکہ انسانی شعور ناپختہ تھا اور انسانوں کا آپس میں رابطہ بھی نہیں تھا اس لئے ان تمام پیغمبروں اور تعلیمات کا دائرہ وقتی اور قومی تھا۔ وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور قابل عزت ہیں۔ خدا کی طرف منسوب ہونے والے سب مذاہب آغاز میں سچے تھے مگر ان کا زمانہ ختم ہو گیا اور ان کی تعلیمات موجودہ حالات سے ہم آہنگ نہیں۔
- جب انسانی شعور ایک خاص حد تک مکمل ہو گیا اور دنیا کے امت واحدہ بننے کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے کامل اور آخری شریعت حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ نازل فرمائی جو سب قوموں اور سب زبانوں اور قیامت تک کے لئے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ آپ خاتم النبیین ہیں یعنی اب تمام روحانی برکتیں آپ کی پیروی اور اتباع سے ملیں گی ۔
- رسول کریم ﷺ اور اسلام کے متعلق دنیا کے قریباً ہر مذہب میں استعاروں کے رنگ میں پیشگوئیاں موجود ہیں جو ان نبیوں کو بھی اور اسلام کو بھی سچا ثابت کرتی ہیں۔
- اسلام کی بنیاد توحید یعنی اللہ کے ایک ہونے پر ہے اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
- اسلام نے توحید کے لفظی اقرار کے علاوہ اجتماعی عبادات قائم کیں ہیں جو خدا سے تعلق جوڑنے کے لئے ضروری ہیں جو اصولاً تو آغاز نبوت سے ہیں مگر ان کی جامع شکل اسلام نے پیش کی ہے۔ مثلاً روزانہ 5 وقت کی باجماعت نماز، ماہ رمضان کے روزے، خانہ کعبہ کا حج، اور زکوٰۃ یعنی دین اور انسانیت کے لئے مالی قربانی۔
- اسلام نےہر قسم کی مخلوق کے لئے حقوق و فرائض مقرر کیے ہیں۔ مثلاً والدین، اولاد، بیوی، بھائی بہن، دیگر رشتہ دار، ہمسایہ، دوست، افسر، ماتحت، حتی کہ جانوروں اور راستوں کے حقوق بھی مقرر فرما دیے۔اسلام چاہتا ہے کہ تمام انسان اپنے حقوق و فرائض ادا کر کے ایک جنت نظیر معاشرہ قائم کریں اور جو لوگ اس میں رکاوٹ ڈالیں انہیں مناسب تنبیہ کی جائے اور سزا دی جائے ۔مگر اس کاتعلق حکومت سے ہے کسی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ۔
- رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی جانشینی یعنی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان ظاہری لحاظ سے بھی ترقی کرتے گئے اور تین بر اعظموں پر ان کی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر پیشگوئیوں کے مطابق آہستہ آہستہ وہ روحانی لحاظ سے کمزور ہوتے چلے گئے۔ مگر اس دور میں بھی بےشمار اہل اللہ ،مجدد دین اور صاحب وحی و الہام لوگ ان کی رہنمائی کے لئے موجود رہے مگر یہ تفرقہ کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔
- قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے زمانہ کی پیشگوئی بھی کی تھی کہ مسلمان بہت سے فرقوں میں بٹ جائیں گے اور اسلام کا نام اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔ دجال اور یاجوج ماجوج ظاہر ہو جائیں گے اور تمام مذاہب اسلام کو مٹانے کے لئے اس پر حملہ آور ہو جائیں گے ۔ تب خدا رسول کریم ﷺ کے متبعین میں سے ایک شخص کو مسیح و مہدی کے نام سے مبعوث کرے گا جو ایمان کو دنیا میں دوبارہ قائم کرے گا اور اسلام کو تبلیغ کے ذریعہ غالب کرے گا ۔
- وہ مصلح عین وقت پر اسلام کی 14ویں صدی ہجری میں آیا ۔ ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان میں ایک عاشق رسولﷺ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے 1882 ٫ میں اس زمانہ کے مامور ہونے کا دعوی فرمایا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کے لئے مہدی، عیسائیوں کے لئے مسیح اور ہندوؤوں کے لئے کرشن ہوں اور دیگر مذاہب جو آخری زمانہ میں ایک مامور من اللہ کا انتظار کر رہے ہیں وہ میں ہی ہوں۔میری کتاب اور کلمہ اور دین وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے آپ نے 90 کے قریب کتب لکھ کر اسلام کی اسچائی اور اپنی صداقت ثابت کی اور کثرت سے انعامی چیلنج دیئے۔
- مسیح موعود نے ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری نہ خدا ہیں نہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ بلکہ ایک بزرگ نبی ہیں دوسرے نبیوں کی طرح آئے اور دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو گئے۔اللہ نے ان کو صلیب سے بچایا اور کشمیر ہندوستان میں ان کی قبر ہے ۔ آنے والے کو مسیح ناصری سے بہت سی مشابہتوں کی وجہ سے مسیح موعود کا نام دیا گیا ہے۔کوئی کفارہ اور تثلیث انجیل سے ثابت نہیں اب اسلام ہی نجات کا ذریعہ ہے ۔
- حضرت مسیح موعود ؑکے وقت میں تمام موعودہ علامات پوری ہو گئیں اور ہوتی جا رہی ہیں۔ آپ کے لئے خدا نے بڑے بڑے نشان دکھائے جیسے آسمان پر کسوف خسوف اور زمین پر طاعون اور زلازل وغیرہ۔
- آپ نے ٫1889 میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور خدمتِ اسلام کی عالمی مہم کا آغاز کیا۔ آج احمدیت دنیا کے 214 ممالک میں موجود ہے۔ جماعت احمدیہ قرآن و حدیث کے متعدد زبانوں میں تراجم کر رہی ہے مساجد بنا رہی ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا بھر میں پھیلا رہی ہے اور عالمی امن کو قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس کا ماٹو ہے ۔ Love for all, Hatred for none۔
- حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد آپ کی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا اور اب آپ کے 5ویں جانشین حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) جماعت کی قیادت فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنی نصرت کے نشان دکھاتا ہے۔ ان کی دعائیں قبول کرتا ہے اور ان کے منصوبوں کو کامیابی عطا کر تا ہے۔
- جماعت احمدیہ کا اصلی مرکز تو قادیان ہے مگر ٫1947 میں انڈیا کی تقسیم کے بعد فسادات کی وجہ سے پاکستان میں نیا مرکز ربوہ کے نام سے بسایا گیا۔ لیکن جب وہاں بھی مذہبی آزادی نہ رہی تو اب امام جماعت احمدیہ لندن میں قیام پذیر ہیں۔
- جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ alislam.org ہے۔اس پر جماعت کا تعارف، کتب، نشانات، اعتراضات اور ان کے جوابات کی پوری تفصیل موجود ہے۔جماعت کا ٹی وی چینل MTA کے نام سے 24 گھنٹے دینی تعلیمات پھیلا رہا ہے ۔
- آپ کسی بھی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم سے رابطہ کریں سوال پوچھیں اپنی تسلی کریں اور امام جماعت احمدیہ کی باقاعدہ بیعت کر کے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہو جائیں کیونکہ
- اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کر کے آپ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کریں گےاور آخرت میں سرخرو ہوں گے ۔
- قرآن کریم کی اتباع کر کے آپ ایک خوبصورت معاشرہ قائم کریں گے جس کی بنیاد باہمی امن اور رواداری اور محبت پر ہو گی۔
- حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل ہو کر آپ ایک عظیم تربیتی اور تبلیغی نظام کا حصہ بنیں گے جس کو دنیا رشک کی نظر سے دیکھتی ہے۔



